خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 577

* 1941 577 خطبات محمود کا اور لوگوں میں اس کی بدنامی بھی نہ کرے گا۔تو باوجود اس کے کہ اس نے مد مقابل کو نہیں مارا اور باوجود اس کے کہ وہ مار نہیں سکتا تھا۔پھر بھی اسے ثواب حاصل ہو گا۔کیونکہ گو وہ مار تو نہ سکتا تھا مگر اسے بدنام کر کے کچھ نہ کچھ بدلہ تو لے ہی سکتا تھا۔مگر وہ بھی اس نے نہیں لیا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے ثواب حاصل ہو گا۔اللہ تعالیٰ کہے گا کہ یہ جتنا بدلہ لے سکتا تھا اتنا بھی اس نے نہیں لیا۔صرف یہ کہ قانون اس کا حق اسے دلوائے گا، نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ اس پر ظلم کرنے والے کو سزا دے گا بلکہ اس کے علاوہ اسے ثواب بھی ملے گا۔لیکن فرض کرو وہ گونگا بھی تھا اور بول بھی نہ سکتا تھا اور اس وجہ سے اس نے نہ تو تھپڑ جواب کھپڑ سے دیا اور نہ زبان سے کسی کے پاس شکایت کی۔لیکن دل میں کہتا رہا کہ تم مجھ سے طاقتور تھے اس لئے مار لیا۔اگر مجھ میں بھی طاقت ہوتی یا میرے بند اور عزیز رشتہ دار یہاں ہوتے تو میں بھی ضرور بدلہ لیتا۔یا اگر میری زبان وتی تو تمہیں سارے جہان میں بدنام کر دیتا۔تو گو اس نے بدلہ لیا نہیں مگر پھر بھی کوئی ثواب نہ ہو گا کیونکہ گو وہ بدلہ لیتا نہیں مگر بدلہ لینے کی خواہش ضرور دل میں کرتا ہے اور انتقام کے جذبات کی پرورش کرتا رہتا ہے۔تو گو اس کا بدلہ خدا تعالیٰ لے گا۔قانون بھی اسے مارنے والے کو سزا دلوائے گا مگر خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے کوئی ثواب حاصل نہ ہو گا لیکن فرض کرو اس نے مقابلہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ وہ اٹھا سکتا تھا اور بد نام بھی نہیں کیا اور نہ کر سکتا تھا کیونکہ اس کی زبان نہ تھی مگر وہ دل میں کہہ سکتا تھا کہ گو مجھے طاقت نہیں تھی کہ میں مقابلہ کر سکتا ، گو میرے رشتہ دار نہ تھے کہ جن کی مدد سے میں بدلہ لے سکتا، گو میری زبان نہ تھی کہ میں بدنام کر سکتا لیکن اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو بھی میں مقابلہ نہ کرتا، اگر میری زبان ہوتی تو بھی میں اسے بدنام نہ کرتا۔تو اس صورت میں وہ خدا تعالیٰ کے ہاں ثواب پانے والا ہو گا۔کیونکہ وہ دل میں تو اپنا غصہ نکال سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔غرض مظلوم بننا ظالم بننے سے بدرجہا بہتر ہے اور نہ صرف دنیا میں نیک بناتا