خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 576

* 1941 576 خطبات محمود یا تانبے پر، یاتین پر ڈالا جائے تو اسے پھل دے گا اور یہ لوہے کی کوئی فضیلت کچل نہیں جو تعریف کے قابل ہو۔پس طاقتور انسان کا کمزور کو کہنا کہ میں تمہیں ایسا ماروں گا اس بات کا ثبوت ہے کہ گویا اس کا طاقتور ہونا اس کے نزدیک کوئی ایسی فضیلت ہے جو اسے اخلاقی فضیلت بخش دیتا ہے اور ایسا خیال بڑی حماقت ہے۔ہاں اگر وہ یہ ثابت کر دے کہ میں مظلوم ہوں اور میرا مد مقابل ظالم ہے تو یہ ایسی ت ہے جس کے مقابلہ میں دشمن نہیں بول سکتا کیونکہ اس کا مظلوم بننا بھی اس کے اختیار میں تھا اور اس کے مد مقابل کا ظالم بننا بھی اس کے اختیار میں تھا۔یہی وجہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر مظلوم بنتا ہے وہ زیادہ قیمت پاتا ہے بہ نسبت کے جو جان بوجھ کر ظالم بنتا ہے ایک شخص میں اتنی طاقت ہے کہ وہ تھپڑ کے مقابلہ میں تھپڑ مار سکے لیکن ایسا شخص اگر تھپڑ کھا کر آگے سے مارتا نہیں تو وہ مظلوم ہے۔قانون بھی اگر وہ منصف لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس کی تائید میں ہو گا۔مگر اس کے علاوہ یہ بات بھی اسے حاصل ہو گی کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں اس کے نام ثواب لکھا جائے گا اور ہر شخص کہے گا کہ تھپڑ کا حق اسے دلایا جائے۔پس علاوہ اس کے کہ قانون بھی تھپڑ مارنے والے کو سزا دے گا۔خدا تعالیٰ کے ہاں بھی اس مظلوم کے نام ثواب لکھا جائے گا۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کمزور اس ہو اور بوجہ مد مقابل کے طاقتور ہونے کے اسے مار ہی نہ سکتا ہو اور اس کا آگے سے نہ مارنا اس کی کمزوری کی وجہ سے ہو۔ایسی صورت میں اگر وہ لوگوں کے سامنے شکوہ و شکایت کرتا پھرتا ہے تو گو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ لے گا اور دنیا بھی اس کے ساتھ انصاف کرے گی۔مگر اسے ثواب حاصل نہیں ہو گا کیونکہ اس نے کوئی قربانی نہیں کی۔گو اس نے مد مقابل کو مارا نہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہی نہ تھی۔لیکن فرض کرو وہ تھپڑ تو نہیں مار سکتا تھا مگر شکوہ شکایت کر سکتا تھا لیکن اس نے خیال کیا کہ مجھے چاہئے کہ اچھا نمونہ پیش کروں اور دنیا سے فساد کا خاتمہ کروں اس لئے خاموش رہا اور فیصلہ کیا کہ وہ مارنے والے کو گالی بھی نہ دے گا