خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 571

خطبات محمود 571 * 1941 مگر تم کو صرف وہی دعا کرنی چاہئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے مانگی ہے۔آگے خدا اسے جس خانہ میں چاہے گا ڈال دے گا کیونکہ خدا دعا کے الفاظ کو نہیں دیکھتا بلکہ مومن کی نیت کو دیکھتا ہے۔جب تم خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگو گے کہ وہ انگریزوں کو فتح دے اور جب تمہاری یہ دعا محض اس لئے ہو گی کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ و السلام نے بھی یہ دعا مانگی ہے لیکن خدا کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا زمانہ ختم ہو چکا ہو گا تو وہ دعا کے الفاظ کے مطابق نہیں بلکہ اس کی روح کے مطابق تم سے سلوک کرے گا اور اس بات کو دیکھ کر کہ تمہارا اصل منشاء اس دعا سے یہ ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو وہ دنیا میں امن قائم کر دے گا۔چاہے وہ کسی صورت میں ہو۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے مثنوی میں مولانا روم نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک گڈریا بیٹھا ہے وہ اپنی گدڑی میں سے جوئیں نکالتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ یا اللہ اگر تو مجھے مل جائے تو میں اپنی بکریوں کا تازہ تازہ تجھے پلاؤں۔اے اللہ اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیرے پیر دباؤں تجھے کانٹے چبھ جائیں تو تیرے پاؤں میں سے کانٹے نکالوں۔تجھے جوئیں پڑ جائیں تو تیرے کپڑوں میں سے جوئیں نکالوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ سنا تو اسے سونٹا مارا اور کہا احمق خدا کی ہتک کرتا ہے۔کیا اللہ بھی بھوکا اور پیاسا ہو رازق ہے سارے جہان کو روزی دیتا ہے لیکن اگر اسے بھوک بھی لگے تو کیا وہ تیری بکریوں کا دودھ ہی پئے گا اور وہ تو طاقتور خدا ہے مگر تیرے نزدیک وہ ننگے پاؤں پھر رہا ہے اور اسے جوتی تک نصیب نہیں اور کانٹے اس کے پاؤں میں چھ نچھ جاتے ہیں۔پھر تو یہ سمجھتا ہے کہ تیری طرح اس نے سڑی ہوئی گدڑی پہنی ہوئی ہے اور اس میں جوئیں پڑی ہوئی ہیں۔وہ بے چارہ تو جوش محبت میں خدا تعالیٰ سے اس طرح پیار کی باتیں کر رہا تھا کہ گویا خدا ایک معصوم بچہ ہے جو اس نے اپنی گود میں اٹھایا ہوا ہے مگر جب اسے سونٹا پڑا تو دل پکڑ کر اور مایوس ہو کر بیٹھ رہا۔اُسی وقت دودھ سکتا ہے۔وہ تو