خطبات محمود (جلد 22) — Page 570
خطبات محمود 570 * 1941 بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے جب تک قومی طور پر انگریزوں پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوتی ہو۔اس وقت تک اس واقعہ کو انگریز قوم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔اِس وقت ہمارے اور ان کے فوائد مشترکہ ہیں۔اگر خدانخواستہ ہندوستان پر حملہ ہو جائے تو جرمن فوجیں صرف انگریزوں کو ہی نہیں ماریں گی بلکہ وہ ہر غریب سے غریب اور امیر سے امیر شخص کو لوٹیں گی۔اگر کسی غریب کے گھر صرف دس سیر دانے پڑے ہوں گے تو وہ ان دس سیر دانوں کو بھی اٹھا کر لے جائیں گی کیونکہ انہیں کھانے کے لئے چیزوں کی ضرورت ہو گی۔یہ تو نہیں کہ وہ اپنے کھانے کے لئے جرمنی سے چیزیں منگوائیں گی۔لازما فوجیں اپنے کھانے کے لئے ہندوستان کے لوگوں کو ہی لوٹیں گی۔پھر جس طرح بھیڑیں اور بکریاں دوڑتی پھرتی ہیں اسی طرح وہ آگے آگے ہوں گے اور پیچھے پیچھے جرمن فوجیں ہوں گی۔نہ کسی کو یہ پتہ ہو گا کہ اس کی بیوی کہاں ہے، نہ کسی کو یہ پتہ ہو گا کہ اس کے بچے کہاں ہیں، نہ کسی کو یہ پتہ ہو گا کہ اس کے دوست کہاں ہیں۔پس ان خطرات کو محسوس کرو اور ان کی اہمیت کے مطابق ان کے لئے دعائیں کرو۔اور یاد رکھو کہ خالی دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ وہ دعا قبول ہوا کرتی ہے جو حالات کے مطابق ہو اس وقت ہمارے پاس دنیوی لحاظ سے کوئی ایسے سامان نہیں جن سے ہم انگریزوں کی مدد کر سکتے ہوں۔ہم زیادہ سے زیادہ یا تو چندہ دے سکتے ہیں یا اپنے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دنیوی سامانوں میں سے ہمارے پاس کوئی سامان نہیں۔لیکن ہمارا بھروسہ ان سامانوں پر نہیں بلکہ دعا پر ہے اور وہ ایک بہت بڑا ہتھیار ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہوا ہے۔اگر ہم سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمارے لئے جو بات بہتر ہے وہ ہو کر رہے گی۔اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک بہتر بات یہ ہوئی کہ دونوں قومیں تباہ ہو جائیں تو وہ دونوں قوموں کو تباہ کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہتر ہوئی کہ کسی ایک کو فتح دے تو جس کی فتح اس کے نزدیک زیادہ بہتر ہو گی اس کو فتح حاصل ہو گی