خطبات محمود (جلد 22) — Page 568
* 1941 568 خطبات محمود یہ دیکھتے ہیں کہ لڑائی کس بات پر ہوئی۔بس یہ دیکھ کر کہ ایک ہندو کے ہاتھ مسلمان مارا گیا ہے جوش میں کھڑے ہو جائیں گے اور ہندوؤں کو مارنے لگ جائیں گے۔فرض کرو راستہ میں کوئی ہندو چلا آ رہا ہے۔اس کی بیوی سخت بیمار ہے اور وہ اس کے علاج کے لئے کسی ڈاکٹر کی طرف جا رہا ہے اسے دیکھ کر مسلمان جھٹ کھڑا ہو جائے گا اور بغیر اس کے کہ یہ جانتا ہو وہ ہندو کون ہے، کہاں کا رہنے والا ہے اور اس کی مسلمانوں سے کوئی دشمنی بھی ہے یا نہیں۔جھٹ الله اكبر کہہ کر خنجر اس کے پیٹ میں اتار دے گا۔حالانکہ اس فعل سے اللهُ اكْبَرُ کہاں ہوا۔اس سے تو الشَّيْطَانُ اكْبَرُ ہو کہ خدا کی بڑائی تو تب تھی کہ کسی مظلوم اور بے گناہ پر ہاتھ نہ اٹھایا جاتا بلکہ اس کی مدد کی جاتی۔مگر جب ایک بے گناہ اور مظلوم کو قتل کر دیا جاتا ہے تو یہ خدا کی بڑائی کہاں ہوئی۔یہ تو شیطان کی بڑائی ہوئی۔یہی حال ہندوؤں کا ہے اس قسم کے فسادات کے موقع پر ہندوؤں کو اگر کوئی مسلمان نظر تو خواہ وہ بے چارہ امرتسر سے اپنا کوئی سودا لینے کے لئے ہی لاہور گیا ہو۔اسے ہرے رام کہہ کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔یہ ہجوم کی سپرٹ کہلاتی۔اور اس میں بغیر یہ جاننے کے کہ مقابل میں کون ہے انسان دوسرے پر حملہ کر دیتا ہے۔جب ایک آدمی دوسرے آدمی کے سامنے آتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ میرے مقابلہ میں کون ہے۔مگر جب ہجوم ہجوم کے مقابلہ میں ہو تو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کون کس پر حملہ کر رہا ہے۔اسی وجہ سے اس قسم کے اندھا دھند حملوں کو ہجومی روح کے ماتحت قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں بھی گو ایک آدمی دوسرے آدمی کو مارتا ہے مگر چونکہ بلا وجہ اور بلا سبب کے مارتا ہے اس لئے اس کی سپرٹ ہجوم والی سپرٹ کہلاتی ہے۔پس اگر ہم بھی بعض افسروں کی وجہ سے تمام انگریز قوم کو دشمن سمجھنے آتا ہے ہے۔لگیں تو ہجومی روح کا ہی مظاہرہ کریں گے۔جو کوئی پسندیدہ بات نہیں ہو سکتی۔ہمارا طریق یہی ہے کہ جب تک ساری قوم پر اتمام حجت نہ کر لیں اُس وقت تک تمام قوم کو اپنا دشمن نہیں سمجھ سکتے۔بلکہ جو فرد ہماری دشمنی کرے گا ہم صرف