خطبات محمود (جلد 22) — Page 557
خطبات محمود یورپ 557 * 1941 پر اب کجا تو وہ حالت تھی اور کجا یہ حالت ہے کہ آج سب جگہ یورپ ہی نظر آتا ہے۔امریکہ ایک نیا بر اعظم نکلا تھا مگر وہاں بھی عیسائیوں کا غلبہ ہے۔مشرقی یورپ میں بھی مسلمانوں کو کوئی طاقت حاصل نہیں اور سپین کی حالت تو ایسی خطرناک ہے کہ آجکل وہاں ایک مسلمان بھی نظر نہیں آتا۔حالانکہ وہ بغداد کے مد مقابل کی حکومت تھی اور اسلام کے متعلق بعض اعلیٰ درجہ کی تصانیف سپین میں لکھی گئی تھیں مگر اب کتابوں کے لکھنے والوں کی قبروں تک کا نشان نہیں ملتا۔شاید اس لئے کہ حکومت کے اثر سے وہاں کے علماء آزاد تھے۔انہوں نے تصنیف کا کام نہایت اعلیٰ درجہ کا کیا ہے۔چنانچہ صوفیاء میں سے حضرت محی الدین صاحب ابن عربی جنہوں نے فتوحات مکیہ لکھی ہے وہ وہیں پیدا ہوئے تھے۔اسی طرح فلسفہ طب اور تفسیر کی نہایت اعلیٰ د درجہ کی کتابیں وہاں لکھی گئیں۔روائتی طور پر قرطبی کی تفسیر بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور یہ ہسپانیہ کے ہی ایک شخص نے لکھی ہے۔درائتی طور اور ادبی لحاظ سے بحر محیط کی تفسیر نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے۔اور یہ بھی ایک ہسپانیہ کے رہنے والے نے ہی لکھی ہے۔مشہور فلسفیوں میں سے جو دو بڑے فلسفی گزرے ہیں۔ان میں سے ابن رشد ہسپانیہ کا ہی رہنے والا تھا۔غرض سپین میں مسلمانوں نے اتنی عظیم الشان ترقی کی تھی کہ اگرچہ ہندوستان کے رہنے والے اس ترقی سے زیادہ آگاہ نہیں مگر مصری اور اردگرد کے علاقوں والے جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی نظیر تھی۔جب مسلمانوں پر انحطاط کا دور آیا تو وہ تمام کتابیں جو انہوں نے لکھی تھیں یورپ کے کتب خانوں میں چلی گئیں اور انہوں نے ان کتابوں سے فائدہ اٹھا کر ترقی کرنی شروع کر دی حتی کہ اب مسلمانوں کو یہ علم تک نہیں رہا کہ ان کے آباء نے کیا کیا تصانیف کی تھیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یورپ کی ساری ترقی ہسپانیہ والوں سے میل جول کا نتیجہ ہے۔میں نے کچھ عرصہ ہوا بعض کتابیں منگوائیں جو مسلمانوں کی گزشتہ ترقی کی تاریخ پر مشتمل تھیں۔انہیں پڑھ کر مجھے بہت ہی خوشی ہوئی ، مذہبی لحاظ سے بے نہیں