خطبات محمود (جلد 22) — Page 558
* 1941 558 خطبات محمود بلکہ اس وجہ سے کہ علمی لحاظ سے ان میں بہت دلچسپ باتیں درج تھیں۔ان کتابوں میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ یورپ کے بہت سے علوم سپین والوں سے نقل کئے گئے اور ہیں۔چنانچہ موسیقی کے متعلق لکھا تھا کہ جو چیز آج یورپ کا آرٹ سمجھا جاتا ہے جس کے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موسیقی کے اصول یورپین لوگوں نے وضع کئے ہیں وہ در حقیقت یورپ کے وضع کردہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی نقل ہیں۔اسی طرح بہت سے باجے اور موسیقی کے طریق سپین والوں سے لئے گئے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک کتاب میں ایک خط و کتابت بھی درج کی گئی ہے جو موسیقی کے متعلق ایک بہت بڑے پادری اور عیسائی میں ہوئی۔اور مصنف نے لکھا ہے کہ یہ خطوط اب تک برٹش میوزیم میں محفوظ ہیں۔اس کتاب کا مصنف لکھتا ہے کہ ایک انگریز سپین میں گیا اور اس نے مسلمانوں سے موسیقی کا علم سیکھا۔جب وہ علم سیکھ چکا تو اس نے اپنے بڑے پادری کو خط لکھا۔جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ تک محفوظ ہے کہ ہمارے ہاں جو موسیقی کا طریق ہے وہ نہایت رڈی ہے۔لیکن مسلمانوں کا طریق نہایت اعلیٰ اور مکمل ہے۔میرا جی چاہتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو کافروں کا یہ علم اپنے ملک میں رائج کیا جائے تاکہ ہمارے گرجوں میں بھی جاری ہو اور لوگ فائدہ اٹھائیں۔اس خط کا پادری نے جو جواب دیا۔اس سے اس کی دیانتداری بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔اس نے لکھا کہ بڑی اچھی بات ہے تم ضرور ایسا کرو مگر لوگوں سے یہ نہ کہنا کہ میں نے یہ علم مسلمانوں سے سیکھا ہے بلکہ کہنا کہ میں نے خود ایجاد کیا ہے۔باجے واجے سے ہمیں کوئی دلچپسی تو نہیں مگر اس سے یہ پتہ ضرور چلتا کہ ظاہری اور باطنی اور دینی اور دنیوی حتی کہ تعیش کے معاملات میں بھی مسلمانوں نے اتنی ترقی کی تھی کہ آج یورپ میں موسیقی کا جو علم رائج ہے وہ بھی مسلمانوں کی نقل ہے۔اسی طرح طب میں انہوں نے مسلمانوں کے علوم کی نقل کی۔چنانچہ یہ بات ثابت ہے کہ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے تک فرانس اور دوسرے