خطبات محمود (جلد 22) — Page 525
* 1941 525 خطبات محمود ہے اس کی ایک تعبیر یہ تھی کہ ہیں ہوائی جہاز سے اترا ہے اور ابھی ایک اور تعبیر جو ابھی پوری ہونے والی ہے۔اس خواب میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بعض اور باتیں بھی ظاہر فرمائیں جو بہت مخفی ہیں اور کسی پر میں نے ان کو ظاہر نہیں کیا۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر وقت ہماری مدد ہوتی ہے۔اس لئے ہم وہ ہتھیار کیوں نہ استعمال کریں جو اس نے ہمیں دیا ہے اور جو دعا کا ہتھیار ہے۔دنیوی لحاظ سے ہم بے بس اور بے کس ہیں مگر دراصل نہیں ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ ہم سے زیادہ طاقت ور اور کوئی نہیں ہے۔کیونکہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہے۔اور جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد ہو وہ بے بس اور بے کس نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی ا لم ظاہری لحاظ سے بالکل بے بس تھے اور ایسی بے بسی تھی کہ مکہ کے لوگ جن کے پاس کوئی بڑی طاقت یا حکومت نہ تھی مدینہ پر چڑھ آتے تھے۔ایسی بے بسی کی حالت میں ایران کے بادشاہ نے آپ کی گرفتاری کا حکم یمن کے گورنر کو بھیجا اور اس نے اپنے آدمی آپ کے پاس بھیجے۔انہوں نے آپ کو سمجھانا شروع کیا۔وہ خیال کرتے تھے کہ یہ عرب کے لوگ ایران کے بادشاہ کی طاقت سے واقف نہیں ہیں۔اس لئے آپ سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ چلے چلیں۔گورنر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کی سفارش بادشاہ کے پاس کر دے گا اور کہے گا کہ آپ قصور وار نہیں ہیں۔اور اس طرح آپ کو بچانے کی کوشش کرے گا۔لیکن نے انکار کیا اور ساتھ نہ گئے تو بادشاہ تمام عرب کو تباہ کر دے گا۔آپ نے ان قاصدوں سے کہا کہ تین دن تک جواب دیں گے۔آپ کی کوئی ذاتی طاقت تو نہ تھی۔آپ نے دعا کی اور آپ کو الہام ہوا کہ ہم نے ایران کے بادشاہ کو اس کے بیٹے کے ہاتھ سے قتل کرا دیا ہے۔ایرانی لوگ اپنے بادشاہ کو خدا اور خداوند کر خطاب کرتے تھے۔اس لئے مقررہ دن جب اس کے قاصد جواب کے لئے پ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا ہے۔انہوں نے پھر آپ کو سمجھانا شروع کیا اور کہا کہ آپ ایسا جواب نہ دیں۔