خطبات محمود (جلد 22) — Page 48
$1941 48 خطبات محمود کی انگیخت اور شرارت پر صبر کرتے ہوئے اپنے نفس کو دبائے اور جذبات کو بے قابو نہ ہونے دے۔آج ہندوستان کے لئے زندگی اور موت کا سوال در پیش ہے اور ہمارے ملک کی قسمت انگلستان سے اس طرح وابستہ ہو چکی ہے کہ جب تک ہو دونوں جہاز الگ الگ نہ ہو جائیں اور جب تک یہ دونوں حکومتیں علیحدہ علیحدہ نہ : جائیں اُس وقت تک انگلستان کو جو نقصان پہنچے گا اس سے بہت زیادہ سخت نقصان ہندوستان کو پہنچے گا۔پس بنی نوع انسان کی خیر خواہی اور ملک کی محبت اسی میں ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور سب سے مقدم اس امر کو سمجھیں کہ جو شخص فوج میں بھرتی ہو سکتا ہے وہ فوج میں بھرتی ہو جائے، جو مالی مدد دے سکتا وہ مالی مدد دے اور جو کچھ بھی نہیں کر سکتا وہ دعا کرے کہ اللہ تعالی اس فتنہ سے ہم سب کو بچائے اور ہمارے طفیل انگلستان کو بھی محفوظ رکھے۔پس ان عارضی باتوں پر جوش میں آ جانا عقلمندی کے خلاف ہے۔بیشک مجھے ان باتوں کی وجہ سے شکوہ ہے اور بے شک تمہارے دل میں بھی غصہ پیدا ہوتا ہو گا مگر غصہ نکالنے کا موقع گا جب جنگ ختم ہو جائے گی۔اس وقت تمہارا کام یہی ہے کہ تم اپنے جذبات کو دبا کر صرف اس امر کی طرف متوجہ رہو کہ یہ عظیم الشان تباہی جو جنگ کی صورت میں آ رہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بچائے اور انگلستان کو بھی محفوظ رکھے۔یاد رکھو ہماری اور ان بے وفا حکام کی مثال ان دو عورتوں کی سی ہے جو ایک ہی خاوند کی بیویاں تھیں اور دونوں کے پاس ایک ایک لڑکا تھا۔خاوند کچھ عرصہ کے لئے باہر چلا گیا تو وہ دونوں اپنے اپنے رشتہ داروں کو ملنے کے لئے گئیں جب وہ واپس آ رہی تھیں تو راستہ میں ان میں سے ایک کا لڑکا بھیڑیا کھا گیا جس کے لڑکے کو بھیڑیا کھا گیا تھا اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جب خاوند واپس آیا تو جس کے پاس بیٹا دیکھے گا اس کی طرف زیادہ توجہ کرے گا اور جس کے پاس بیٹا ہو گا اس کی طرف کم توجہ کرے گا۔معلوم ہوتا ہے وہ خاوند ایسے وقت میں باہر چلا گیا تھا جب وہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے اور اسے خیال تھا کہ جب وہ واپس آیا تو