خطبات محمود (جلد 22) — Page 47
$1941 47 خطبات محمود وہ ہے جو سکھوں کے لئے ہے اور دوسرا قانون وہ ہے جو احمدیوں کے لئے ہے۔سکھوں کے متعلق تو یہ قانون ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر، سپرنٹنڈنٹ پولیس، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ اور پولیس کی ایک بہت بڑی جمعیت کے سامنے احمدیوں کے محلوں میں سے کلہاڑیاں اور تلواریں ہلاتے ہوئے جلوس کی صورت میں گزریں تو یہ بالکل جائز اور درست ہے لیکن احمدیوں کے لئے یہ قانون ہے کہ وہ اس قسم کا پروسیشن نکالیں یا نکالیں اگر ان میں سے کچھ لوگ عادتاً جیسا کہ زمینداروں کی عام طور پر عادت ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں سونٹا یا کلہاڑی وغیرہ رکھتے ہیں۔ایسے طور پر نہیں کہ کسی کو اشتعال دلانا مقصود ہو یا گلیوں میں سے وہ کلہاڑیوں کو ہلاتے ہوئے گزریں، جگہ جائیں تو ان کے لئے یہ بات ناجائز ہے۔جس کے معنے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ بعض حکام کی ذہنیت یہ ہے کہ جو طاقتور ہو اس کے آگے جھک جاؤ اور جو کمزور ہو اس کو دباؤ۔احمدی چونکہ تھوڑے ہیں اس لئے ان کے لئے اور قانون ہے لیکن سکھ چونکہ زیادہ ہیں اور ان کے متعلق گورنمنٹ کو یہ خطرہ ہے کہ اگر ان سے مقابلہ کیا تو بھرتی بند ہو جائے گی اور ملک میں اشتعال پیدا ہو جائے گا اس لئے ہوتی ان کے لئے اور قانون ہے۔میری غرض ان واقعات کو خطبہ میں بیان کرنے سے یہ ہے کہ اس قسم کے حالات کو دیکھ کر بسا اوقات جماعتوں میں بے چینی اور بے اطمینانی پیدا ہو جاتی ہے۔میں نے کل خدام الاحمدیہ کو اسی لئے مخفی طور پر اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ صبر سے کام لو اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھو۔کچھ مواقع اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی نادان نادانی بھی کرے تو انسان کو صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔یہ زمانہ جس میں سے ہم گزر رہے ہیں ایسا نازک ہے کہ خواہ ہندوستانی حماقت کریں یا انگریز کسی بیوقوفی کا ارتکاب کریں ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس قسم