خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 46

خطبات محمود 46 $1941 نہیں ہو سکتی۔وہ کس طرح اس قسم کی فتنہ انگیزی کو جائز سمجھ رہی ہے؟ اس قسم کا فعل کسی قوم کا فرد اُس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی قوم کا د قوم کا دشمن نہ ہو یا حد درجہ احمق اور بیوقوف نہ ہو لیکن چونکہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کی ذمہ داری ہندوستانیوں پر ہے یا انگریزوں پر ہے یا کسی اور پر ہے۔اس لئے باوجود اس بات کو نہایت ہی ناپسند کرنے کے میں اس کے متعلق کسی قسم کے خیالات کا اظہار کرنا نہیں چاہتا لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ واقعات ہر ایک کو نظر آ رہے ہیں۔صرف یہی نہیں کہ میرے سامنے ہیں بلکہ جماعت کے دوستوں نے بھی ان واقعات وہ کو دیکھا ہے۔مثلاً یہ کوئی پوشیدہ بات نہ تھی کہ سکھوں کا یہاں دیوان ہوا اور تلواریں اور کلہاڑے ہلاتے ہوئے ہماری گلیوں میں سے گزرے۔آخر ایک مذہبی دیوان کے ساتھ اس قسم کے پروسیشن (PROSESSION کا کیا تعلق ہو سکتا تھا جس میں وہ نیزے، تلواریں اور کلہاڑے لے کر نکلتے اور جب وہ ہ تلواریں اور کلہاڑے لے کر نکلے اور انہیں ہلاتے ہوئے ہماری گلیوں میں سے گزرے تو اس کے سوائے اس کے اور کیا معنے تھے کہ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم تلواروں اور کلہاڑوں سے لڑنے کے لئے تیار ہیں اگر آنا ہے تو آ جاؤ۔گویا یہ ایک خاموش اشتعال انگیزی تھی۔مگر ہماری جماعت نے صبر کیا اور اس نے سکھوں کے اس رویہ کے باوجود اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔لیکن اب جبکہ خدام الاحمدیہ کا جلسہ ہوا اور اس میں اتفاقی طور پر بعض لوگ کلہاڑیاں لے کر آگئے تو باوجود اس کے کہ خدام الاحمدیہ نے اس قسم کا کوئی پروسیشن نہیں نکالا تھا جس قسم کا سکھوں نے نکالا۔حکام نے یہ نوٹس دے دیا کہ اس جلسہ میں بعض لوگ کلہاڑے لے کر آئے ہیں جو امن عامہ کے ہے اسے روکا جائے۔گویا اس وقت حکومت کے دو قانون جاری ہیں۔ایک قانون منافی ہے۔