خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 456

* 1941 456 خطبات محمود اس ایکٹ کا وہی مفہوم ہے جو اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے تو پھر اس ایکٹ کے ماتحت کسی کو بھی کوئی پیکٹ بھیجوا کر گرفتار کرا دینا بالکل آسان امر ہے اور اس طرح ہماری جماعت کا کوئی فرد اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔کل ممکن ہے میرے پاس اس طرح کا کوئی پیکٹ آ جائے اور پولیس مجھے گرفتار کر لے۔آخر سوشلسٹوں کے لئے یا پولیس کے لئے اس قسم کا پیکٹ بھجوانا کیا مشکل ہے۔سوشلسٹوں کے اشتہارات وغیرہ اس کے قبضہ میں آتے ہی رہتے ہیں۔وہ آسانی سے کسی دوسرے کے نام وہی اشتہارات بصورت پیکٹ بھیج کر اسے گرفتار کرا سکتی ہے۔گویا تمام معززین کی عزتیں خطرہ میں ہیں اور امن محض سی آئی۔ڈی کے چند افسروں کے ہاتھ میں رہ گیا ہے۔میں نے اس خط میں جو ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو بھجوایا ہے یہی لکھا ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ کیا قانون کا یہی منشاء ہے۔میں کسی بڑے افسر کا نام ادب کی وجہ سے نہیں لیتا لیکن کیا ان کو اس قسم کا پیکٹ اگر کوئی بھیج تو پولیس تین چار منٹ کے بعد ہی ان کو گرفتار کر ے گی حالانکہ تین چار میں کوئی انسان خواہ کتنا ہی سمجھدار ہو، کتنا ہی طاقتور ہو، کتنے ہی وسیع ذرائع رکھنے والا ہو یہ نہیں کر سکتا کہ اس پیکٹ کو ڈپٹی کمشنر یا سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس بھجوا سکے۔آخر وہ کونسا ذریعہ ہے جس کے ماتحت اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے تین چار منٹ بعد ہی انسان اسے کسی ذمہ دار افسر تک پہنچا سکے اور اس طرح اپنی بریت ثابت کر سکے۔میں سمجھتا ہوں انگریزوں کے جرنیل اور کرنیل بھی یہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ باوجود بڑی طاقت رکھنے کے، باوجود ہوائی جہاز رکھنے کے اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے بعد تین چار منٹ کے اندر اندر اس کے متعلق کوئی کارروائی کر سکیں۔پس اگر اس قانون کا یہی مفہوم ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہندوستان کے ہر شخص کی عزت خطرہ میں ہے۔فرض کرو میں اس وقت وہاں موجود نہ ہوتا تو کیا اس قانون کے ماتحت خلیل احمد مجرم نہیں تھا۔یا فرض کرو وہ اس کی اہمیت کو نہ سمجھتا اور اس پیکٹ کو کمرہ میں پھینک دیتا تو کیا وہ مجرم نہ بن جاتا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ