خطبات محمود (جلد 22) — Page 455
* 1941 455 خطبات محمود ہم قادیان آ گئے۔صبح کے شور و شر کے بعد جب مختلف لوگوں کی گواہیاں لینے کے لئے میں نے مرزا عبد الحق صاحب کو مقرر کیا تاکہ تازہ بتازہ شہادت قلم بند ہو جائے تو مجھے معلوم ہوا کہ پولیس ڈاک آنے سے پہلے ہی ڈاک خانہ کے پاس بیٹھی بھی حالانکہ ابھی پیکٹ نہیں آیا تھا۔اسی طرح وہ سڑکوں پر بھی مختلف جگہوں پر کھڑی تھی۔جس کے معنے یہ ہیں کہ پولیس پیکٹ کے منصوبہ میں شامل تھی۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈاکیا نے اصرار کر کے خلیل احمد کو پیکٹ دیا تھا۔واقعہ یہ ہے جب ڈاکیا پیکٹ لایا تو خلیل احمد وہ پیکٹ درد صاحب کے پاس لایا اور کہنے لگا کہ یہ میرے نام بیرنگ پیکٹ آیا ہے کیا میں لے لوں۔درد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا ایسا پیکٹ نہیں لینا چاہئے مگر وہ باہر جا کر پھر آیا اور اس نے دو آنے ڈاکیا کو دینے کے لئے طلب کئے۔جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو اس نے کہا کہ ڈاکیا اصرار کرنے لگا تھا کہ ضرور پیکٹ لے لیا جائے اور کہنے لگا کہ دو آنے خرچ کرنا کونسی بڑی بات ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ڈاکیا کو بھی پولیس نے یہ کہہ کر بھجوایا تھا کہ تم اصرار کرنا تاکہ خلیل احمد اس پیکٹ کو وصول کر ے۔یہ واقعات ہیں جو میں نے بغیر کسی قسم کی جرح کے اور بغیر اپنے جذبات کو ظاہر کرنے کے بیان کر دیئے ہیں۔میں نے یہ نہیں بتایا کہ کس کس طرح ان واقعات سے سلسلہ پر اور ہم پر حرف آیا ہے یا ان واقعات سے اور ان سے جن کو میں نے ظاہر نہیں کیا کس طرح پولیس والوں کی بد نیتی اور ان کی جماعت کو ذلیل کرنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔میں ان امور کو اس وقت تک ملتوی رکھتا ہوں جب تک گورنمنٹ سے اس بارہ میں میں گفتگو نہ کر لوں اور یہ نہ معلوم کر لوں کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے۔مگر جو چیز مجھے عجیب لگی ہے جو میرے دل میں کھٹکتی ہے اور جس کے بیان کرنے سے میں نہیں رک سکتا وہ یہ ہے کہ اگر