خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 430

* 1941 430 خطبات محمود سے ہمیں بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔غرض اس دوست نے بتایا کہ منشی اروڑے خان صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ یہ مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں پھر اس نے سنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا میں قادیان جانا چاہتا ہوں۔مجھے چھٹی دے دیں اس نے انکار کر دیا۔اس وقت وہ سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا قادیان میں میں نے ضرور جانا ہے مجھے آپ چھٹی دے دیں۔وہ کہنے لگا کام بہت ہے اس وقت آپ کو چھٹی نہیں دی جا سکتی۔وہ کہنے لگے بہت اچھا آپ کا کام ہوتا رہے میں تو آج سے ہی بد دعا میں لگ جاتا ہوں۔آپ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔آخر اس مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا اور جب بھی ہفتہ کا دن آتا وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کام ذرا جلدی بند کر دینا کیونکہ منشی اروڑے خان صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائے گا۔اس طرح وہ آپ ہی جب بھی منشی صاحب کا ارادہ قادیان آنے کا ہوتا انہیں چھٹی دے دیتا اور وہ قادیان پہنچ جاتے۔پھر ان کی محبت کا یہ نقشہ بھی مجھے کبھی نہیں بھولتا جو گو انہوں نے مجھے خود ہی سنایا تھا مگر میری آنکھوں کے سامنے وہ یوں پھرتا رہتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے اس واقعہ کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا۔انہوں نے سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ایک دفعہ ہم نے عرض کیا کہ حضور کبھی کپور تھلہ تشریف لائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے وعدہ فرمالیا کہ جب فرصت ملی تو آجاؤں گا۔وہ کہتے تھے کہ ایک دن کپور تھلہ میں میں ایک دکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شدید ترین دشمن اڈے کی طرف سے آیا اور مجھے کہنے لگا۔لو تمہارا مرزا کپور تھلے آگیا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب فرصت ملی تو وہ اطلاع دینے کا وقت نہ تھا اس لئے آپ بغیر اطلاع دیئے ہی چل پڑے۔منشی اروڑے خان صاحب نے یہ خبر سنی تو وہ خوشی میں ننگے سر اور ننگے پاؤں اڈے کی طرف بھاگے مگر چونکہ خبر دینے والا شدید ترین مخالف تھا اور ہمیشہ احمدیت سے تمسخر کرتا رہتا تھا اس لئے ان کا بیان تھا کہ تھوڑی دور جاکر مجھے خیال آیا کہ یہ بڑا خبیث دشمن ہے اس نے