خطبات محمود (جلد 22) — Page 427
* 1941 427 خطبات محمود مجھے کسی نے آواز دے کر بلوایا اور خادمہ یا کسی بچے نے بتایا کہ دروازہ پر ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلا رہا ہے۔میں باہر نکلا تو منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کھڑے تھے۔وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے، مجھ سے مصافحہ کیا اور ا سکے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنی جیب سے دو یا تین پونڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں اور یہ کہتے ہی ان پر ایسی رقت طاری ہوئی اور وہ چیخیں مار کر رونے لگ گئے اور ان کے رونے کی حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے کو ذبح کیا جا رہا ہے۔میں کچھ حیران سا رہ گیا کہ یہ رو کیوں رہے ہیں۔مگر میں خاموش کھڑا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ وہ خاموش ہوں تو ان سے رونے کی وجہ دریافت کروں۔اسی طرح وہ کئی منٹ تک روتے رہے۔منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم نے بہت ہی معمولی ملازمت سے ترقی کی تھی۔پہلے کچہری میں وہ چپڑاسی کا کام کرتے تھے۔پھر انکمد کا عہدہ آپ کو مل گیا، اس کے بعد نقشہ نویس ہو گئے۔پھر اور ترقی کی تو سررشتہ دار ہو گئے اس کے بعد ترقی پاکر نائب تحصیلدار ہو گئے اور پھر تحصیلدار بن کر ریٹائر ہوئے۔ابتداء میں ان کی تنخواہ دس پندرہ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔جب ان کو ذرا صبر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روئے کیوں ہیں؟ وہ کہنے لگے میں غریب آدمی تھا۔مگر جب بھی مجھے چھٹی ملتی میں قادیان آنے کے لئے چل پڑتا تھا۔سفر کا بہت سا حصہ میں پیدل ہی طے کرتا تھا تاکہ سلسلہ کی خدمت کے لئے کچھ پیسے بیچ جائیں۔مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا۔یہاں آکر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش! میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بجائے چاندی کا تحفہ لانے کے سونے کا تحفہ پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہو گئی اس وقت ان کی تنخواہ شاید میں پچیس روپیہ تک پہنچ گئی تھی اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی اور میں نے اپنے دل میں