خطبات محمود (جلد 22) — Page 428
* 1941 428 خطبات محمود یہ نیت کی کہ جب یہ رقم اس مقدار تک پہنچ جائے گی جو میں چاہتا ہوں تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کروں گا۔پھر کہنے لگے جب میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہو گئی تو وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈلے لیا پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی وع کر دی اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لئے رقم جمع ہو گئی تو دوسرا پاؤنڈ لے لیا۔اسی طرح میں آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے انہیں پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرتا رہا اور میرا منشاء یہ تھا کہ میں یہ پونڈ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی خدمت میں پیش کروں گا۔مگر جب میرے دل کی آرزو پوری ہو گئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رفت کی حالت طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئے۔آخر روتے روتے انہوں نے اس فقرہ کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات ہو گئی۔یہ اخلاص کا کیسا شاندار نمونہ ہے کہ ایک شخص چندے بھی دیتا ہے، قربانیاں بھی کرتا ہے، مہینہ میں ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بلکہ تین تین دفعہ جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان پہنچ جاتا ہے۔سلسلہ کے اخبار کتابیں بھی خریدتا ہے۔ایک معمولی سی تنخواہ ہوتے ہوئے، جب کہ آج اس تنخواہ سے بہت زیادہ تنخواہیں وصول کرنے والے اس قربانی کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی قربانی نہیں کرتے۔اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ امیر لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سونا پیش کرتے ہیں تو میں ان سے پیچھے کیوں رہوں۔چنانچہ وہ ایک نہایت ہی قلیل تنخواہ میں سے ماہوار کچھ رقم جمع کرتا اور ایک عرصہ دراز تک جمع کرتا رہتا ہے۔نہ معلوم اس دوران اس نے اپنے گھر میں کیا کیا تنگیاں برداشت کی ہوں گی، کیا کیا تکلیفیں تھیں جو اس نے خوشی سے جھیلی ہوں گی۔محض اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اشرفیاں پیش کر سکے۔