خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 384

* 1941 385 خطبات محمود ایمان کی عمارت پہلوں سے اچھی ہو تو قوم کی عزت بڑھتی ہے، نہیں تو کم ہو جاتی ہے۔کل بورڈنگ تحریک جدید میں میں نے جو تقریر کی اس میں بتایا تھا کہ ہم سات طالب علم تھے جنہوں نے مل کر رسالہ تشخیز الاذہان جاری کیا۔کسی سے کوئی مدد ہم نے نہیں لی۔ایک پیسہ بھی چندہ کسی سے نہیں مانگا۔اپنے پاس ہی سے رقوم دیں۔ہاں بعد میں اگر بعض دوستوں نے اپنے طور پر کوئی مدد دی تو وہ لے لی۔ورنہ سب بوجھ خود ہی اٹھایا۔کسی سے مضمون بھی نہیں مانگا۔خود ہی رسالہ کو ایڈٹ کرتے خود ہی چھاپتے اور خود ہی بھیجتے تھے۔سب کام خود کرتے تھے اور اگر اس زمانہ میں وہ سات طالب مل کر یہ کام کر سکتے تھے تو اب ہمارے سکولوں کے 1500 لڑکے مل کر ان سے دو اڑھائی سو گنا زیادہ کیوں نہیں کر سکتے۔یقینا کر سکتے ہیں بشر طیکہ ان کے دلوں میں وہی جوش ہو بلکہ ان میں پہلوں سے زیادہ جوش ہونا چاہئے کیونکہ جسے بنا بنایا کام مل جائے اسے اس کو آگے چلانے میں بہت سی سہولتیں اور آسانیاں ہوتی ہیں۔۔پس میں آج طالب علموں اور استادوں سے بھی کہ ان کی ذمہ داریاں بھی سے، بہت زیادہ ہیں کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سلسلہ کی طرف سے، صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے اور خلیفہ وقت کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔اب جو تم چھٹیوں پر جاؤ تو وہ ایمان اور جوش لے کر جاؤ کہ جہاں بھی تم جاؤ، جب وہاں سے واپس آؤ تو وہاں کی جماعت میں ایک بیداری پیدا و چکی ہو۔تمہارے اس جانے اور آنے کی مثال چھوٹی سی پیدائش اور انتقال کی ہو۔انتقال کے معنی مرنا ہی نہیں ہوتے بلکہ جگہ بدلنے کے بھی ہوتے ہیں اور جب علم کسی نئی جگہ جاتا ہے تو گویا اس کی نئی ولادت ہوتی تو گویا اس کی نئی ولادت ہوتی ہے۔مثلاً جب کوئی طالب چھٹیوں پر یہاں سے لاہور پہنچے گا تو ان چند ہفتوں کے لئے لاہور میں وہ گویا نیا جنم لے گا اور جب وہاں سے واپس آئے گا تو گویا وہاں سے انتقال کرے گا۔دنیا کی ولادت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ ایک روح کو دنیا میں منتقل کر دیتا ہے تو یہ اس کی