خطبات محمود (جلد 22) — Page 385
* 1941 386 خطبات محمود پیدائش ہوتی ہے اور پھر جب وہ روح اگلے جہان کو جاتی ہے تو اس جہان سے اس کا انتقال ہوتا ہے اور ایک بڑی پیدائش بھی ہوتی ہے۔ایک عرب شاعر نے کہا ہے کہ يَاذَا الَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِيًّا وَ النَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورا فَا حُرِصْ عَلَى عَمَلٍ تَكُونَ إِذَا فِي وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكًا مَسْرُورًا 4 بگوا یعنی اے انسان تو وہی تو ہے کہ جب تو پیدا ہوا تو تو روتا تھا۔پیدائش کے وقت چونکہ بچہ کے سینہ پر دباؤ پڑتا ہے اور وہ روتا ہے اور یہ امر اس کے سانس کے چلنے کا موجب ہو جاتا ہے اور جو بچہ پیدائش کے وقت نہ روئے۔اس پر پانی کے چھینٹے دینے پڑتے ہیں تاکہ وہ ہچکی لے اور سانس چلنے لگے۔شاعر کہتا ہے کہ جب تو پیدا ہوا تو رو رہا تھا اور لوگ تیرے ارد گرد خوشی سے ہنس رہے تھے۔بچہ کی پیدائش کے وقت لوگ خوشی کرتے ہی ہیں۔مبارک بادیں دیتے ہیں کہ لڑکا ہو گیا۔اسی کی طرف اشارہ کر کے شاعر انسان کی غیرت کو اکساتا ہے کہ جب تُو روتا تھا تو لوگ تیرے ارد گرد ہنس رہے تھے۔پس تجھے چاہئے کہ ان سے اس کا بدلہ لے۔وہ کس طرح؟ اس کا جواب وہ یوں دیتا ہے کہ۔فَاخْرِصُ عَلَى عَمَلٍ تَكُونَ إِذَا فِي وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكًا بگوا مَسْرُورًا اب تو ایسے عمل کر اور اس کا بدلہ اس طرح لے کہ جب تیری موت کا وقت آئے تو تیرے ارد گرد سب لوگ رو رہے ہوں کہ ہمارا محسن اور ہمدرد دنیا سے چلا جا رہا ہے۔اب ہمارے کام کون کرے گا اور تُو ہنس رہا ہو کہ میں اپنے رب کے پاس چلا ہوں۔جہاں مجھے بڑے بڑے انعام ملیں گے۔تو میں طالب علموں اور استادوں سے کہتا ہوں کہ یہی نمونہ دکھاؤ۔یعنی جب