خطبات محمود (جلد 22) — Page 38
$1941 38 خطبات محمود فرائض میں سستی ہو جائے۔یہ نصیحت کر کے وہ چلے آئے۔اگلے جمعہ کے بعد پھر ملنے گئے۔جمعہ کے جمعہ جاتے تھے تو بہن نے کہا کہ اب تو مجھے فرائض سے زیادہ نفلوں میں لذت آتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہی اصل چیز ہے۔بھائی نے کہا ہشیار رہو شیطان خدا تعالیٰ۔سے دور لے جا رہا ہے۔اگلے جمعہ کو وہ پھر آئے تو بہن نے کہا بھائی بات تو آپ نے ٹھیک کہی تھی اب تو بعض دفعہ مجھے طبیعت پر جبر کر کے فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں کوئی علاج بتاؤ۔بھائی نے کہا لا حَول پڑھا کرو۔اگلے جمعہ وہ پھر آئے تو بہن نے کہا بھائی! خدا آپ کا بھلا کرے میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ شیطان بندر کی صورت میں بیٹھا غصہ سے دانت پیس رہا ہے اور پ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ اس نے تمہیں بچا لیا ورنہ میں تو تمہیں جہنم لے جاتا۔تو جب تک دماغ اور قلب کی صفائی نہ ہو اور اس کے ساتھ فرائض پابندی، ذکر الہی بھی عذاب بن جایا کرتا ہے۔پس یہ دونوں چیزیں بہت ضروری ہیں۔ایک ہی طرف لگ جانا بے وقوفی کی بات ہے اور اس سے قرب الہی حاصل نہیں ہو سکتا۔بیک وقت دونوں چیزیں ضروری ہیں اور جب یہ دونوں مل جائیں تو خدا تعالیٰ سے ایسی پیوستگی ہو جاتی ہے اور ایسا لگاؤ پیدا ہو جاتا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز پھر ایسے انسان کو خدا تعالیٰ سے جدا نہیں کر سکتی۔اس کامل محبت کی ایک مثال اسی لاہور میں ظاہر ہو چکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بہت مخالفت کی اور سارے ملک میں پھر کر آپ کے خلاف کفر کے فتوے حاصل کئے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے ہی اس شخص کو اوپر اٹھایا تھا اور اب میں ہی اسے گراؤں گا۔وہ یہاں لاہور میں آکر بیٹھ گئے اور خوب زور سے مخالفت شروع کر دی۔لدھیانہ کے ایک ان پڑھ سے دوست میاں نظام الدین صاحب تھے بہت ہنس مکھ آدمی تھے حج کا ان کو بے انتہا شوق تھا اور باوجود اس کے کہ ریلیں نہ تھیں اور جہاز بھی دُخانی نہ تھے پھر بھی انہوں نے 8، 10 حج کئے تھے۔اس زمانہ میں