خطبات محمود (جلد 22) — Page 39
$1941 39 خطبات محمود بہت سا سفر پیدل کرنا پڑتا تھا اور ایک ایک حج میں دو دو سال لگ جاتے تھے۔ان کی طبیعت میں مذاق بہت تھا اور بچوں میں بہت خوش رہتے تھے۔ہمیں بھی وہ اپنے لطائف سنایا کرتے تھے اور ہم ہنس ہنس کر لوٹ لوٹ جاتے تھے بہت سادہ آدمی تھے اور چائے کے بہت عادی تھے۔چونکہ لدھیانہ میں افغان شہزادے رہتے ہیں اس لئے وہاں چائے کا عام رواج ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ میاں! معلوم ہے حج کو جاتے ہوئے ہم چائے کس طرح پیتے ہیں؟ وہاں رستہ میں سماوار وغیرہ کہاں ہوتے ہیں میں تو یوں کرتا تھا کہ جہاں چائے کا وقت آیا اور چائے نہ ملی تو چائے کی پتی لی اور پھانک لی پھر جب کہیں گرم پانی ملا اوپر سے وہ پی لیا بس پیٹ میں جا کر آپ ہی چائے بن گئی۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی اور وہ مولوی محمد حسین صاحب کے بھی بڑے مداح تھے ان کے اوپر بھی اہلحدیث کا رنگ چڑھا ہوا تھا۔انہوں نے جب سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے تو کہا کہ نہیں مرزا صاحب کفر کی بات نہیں کر سکتے ان کو کوئی غلطی لگی ہو گی ہ قرآن کے عاشق ہیں۔وہ یہ شور سن کر قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ لوگ کہتے ہیں آپ قرآن کریم کے خلاف عقائد رکھتے ہیں۔آپ نے فرمایا میاں نظام دین! آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ میں نے قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کہی ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ آپ کا بھلا کرے نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ لوگ غلط کہتے ہیں یہ بھی تو جھوٹ ہے نا کہ آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ تو سچ ہے مگر قرآن کریم میں یہی لکھا ہے۔میاں نظام الدین صاحب نے کہا کہ قرآن بیسیوں آیات ان کے زندہ ہونے کی شاہد ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر ایک بھی ہو تو میں مان لوں گا۔وہ کہنے لگے کہ بس میں نے پہلے ہی تھا کہ کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو گی اب معاملہ صاف ہو گیا۔میں ایک سو آیات مسیح علیہ السلام کی زندگی کے ثبوت میں لکھوا لاتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیه السلام :