خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 326

خطبات محمود ہے کہ:۔* 1941 327 الف: عام مسلمان صرف ظاہری مسلمان ہیں۔ب حقیقی مسلمان صرف احمدی ہیں۔ج ان حقیقی مسلمانوں کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہے۔اب غیر مبائعین جو کروڑوں مسلمان کہلانے والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں وہ انہیں ظاہری مسلمانوں میں شامل کرتے ہیں یا حقیقی مسلمانوں میں؟ اگر وہ انہیں حقیقی مسلمان سمجھتے ہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام نے حقیقی مسلمانوں کو صرف چار لاکھ کے قریب قرار دیا ہے اور اگر وہ انہیں صرف ظاہری مسلمان سمجھتے ہیں تو پھر ہمارا اور ان کا جھگڑا ہی کیا ہے۔ہم نے بھی عام مسلمانوں کو مسلمان کہنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔چنانچہ میری تحریریں دیکھ لی جائیں ان میں باقی مسلمانوں کے لئے مسلمان کا لفظ یقینا استعمال ہوا ہو گا بلکہ ہزاروں مرتبہ میرے خطبات، میری تقریروں اور میری تحریروں میں سے ان لوگوں کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر ایمان نہیں لائے مسلمان کا لفظ نکل آئے گا تو ان لوگوں کو ظاہری مسلمان سمجھنے سے ہم نے کبھی انکار نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی ان کے متعلق ظاہری مسلمان کے الفاظ استعمال فرماتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں۔ان ظاہری مسلمانوں میں سے چار لاکھ کے قریب “حقیقی مسلمان” یعنی احمدی بن چکے ہیں۔پس اس سے ظاہر ہے کہ ”حقیقی مسلمان“ صرف احمدی ہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر ایمان لائے اور ان کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔لطیفہ یہ ہے کہ اس حوالہ میں ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اس الہام کو کہ چو دورِ خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا ہے اور دوسری طرف ان مسلمانوں کو