خطبات محمود (جلد 22) — Page 310
* 1941 311 خطبات محمود۔اب یہ یہ ممکن ہے کہ اس کی طرح یہ تینوں صفات کوئی دوسرا نہ رکھتا ہو۔مگر ایک صفت اس جیسی کسی میں ہو تو گو وہ سب صفات میں زید سے مشابہ نہیں تاہم ایک مشابہت کی بناء پر اسے اس جیسا کہا جا سکتا ہے۔مگر ليسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ سے مراد یہ ہے کہ ساری صفات میں شرکت تو الگ رہی ایک صفت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔یہ تو الگ رہا کہ خدا جیسا کوئی بھی مُجِیب ،قُدُّرُس، جَبَّارِ، قَتَارِ، سَمِيع، بصیر ہو۔اس سے تو ایسی مماثلت ہی ناممکن ہے کہ کسی ایک صفت کے لحاظ سے ہی کوئی اس جیسا ہو۔ان آیات سے پہلے بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس آیت میں مثل کی نفی کی گئی ہے نہ کہ اس کا اثبات کیا گیا ہے۔پس جس نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ اس کی مثل کی مثل کوئی نہیں ہو سکتی وہ جاہل ہے۔اس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ شاید قرآن اردو زبان میں ہے اگر وہ عربی زبان سے واقف ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ حرف تشبیہ کی تکرار عربی قاعدہ کے مطابق تو کید کے لئے آتی ہے۔اور وہ آیت کے مضمون پر زور دیتی ہے نہ کہ نفی کرتی ہے اور بعد کا مضمون اس مفہوم کو اور پکا کرتا ہے کیونکہ اس سے آگے فرمایا وَهُوَ السَّمِيعُ البصير یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اس کی صفات میں اس سے مشابہ ہو سکے۔دوسری صفات کو جانے دو صرف سمیع و بصیر کی صفات کو ہی لے لو۔خدا جیسا سمیع اور بصیر بھی کوئی نہیں سکتا۔یہ جو خدائی کے مدعی ہیں یہ سو رہے ہوتے ہیں اور بیوی پاس تکلیف سے ان کراہ رہی ہوتی ہے مگر ان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی چیخ نہ نکلے کے بچہ کی جان نکل رہی ہوتی ہے مگر ان کو کچھ علم نہیں ہوتا لیکن خدا تعالیٰ سَمِيع اور بصیر ہے اسے ذرہ ذرہ کی خبر ہے۔اور دنیا میں لاکھوں کروڑوں انسان ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اس کے سَمِیع اور بصیر ہونے کا تجربہ کیا ہے۔ایک انسان اپنے بیوی بچوں سے چھپا کر دوستوں سے بھی پوشیدہ رکھ کر خدا تعالیٰ ނ