خطبات محمود (جلد 22) — Page 303
* 1941 304 خطبات محمود اس سے باز پرس کرتا گیا اور ساتھ ساتھ اسے پیٹتا بھی گیا۔جب اسے پندرہ ہیں گھونسے اچھی طرح پڑے اور اس نے دیکھا کہ کسی طرح یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا چلا اٹھا کہ نہیں میں خدا نہیں ہوں۔پس فرمایا محکمۂ إِلَى اللهِ۔خدا تعالیٰ کی ہستی غالب اور وراء الوراء ہے کہ اس پر کسی کا قابو نہیں چلتا۔اس کے تمام افعال حکمت کے ماتحت ہوتے ہیں اور اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کی صفات ظاہر ہیں۔اگر کوئی بندہ اپنے اندر وہ صفات ثابت کر دے تو ہم مان لیں گے۔اگر کوئی اس کی طرح مُخی بن جائے، مُمِيت بن جائے، قَهَّار، جَبَّار، مُهَيْمِن الْعَزِیز اپنے آپ کو ثابت کر دے تو ہم مان لیں گے۔لیکن اگر وہ ان صفات کا مالک نہیں تو اس کا خدائی کا دعویٰ محض بکواس ہے۔پہلی آیت میں یہی بتایا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ کا شریک بناتے تھے۔اور پھر فرمایا لیکم الله لي عليه وتلت اليه أنيب اے محمد (صلى ا) تو کہہ دے کہ یہ میرا رب ہے جس نے اپنی صفات کو ظاہر کیا ہے جو انسان خدائی کا مدعی ہے اسے تو دوسرا انسان پکڑ کرمار بھی سکتا ہے۔مگر میرے خدا کو کوئی کہاں پکڑے گا۔تم کہتے ہو کہ فلاں خدا تھا، فلاں خدا کا مظہر تھا اور خدا کا بیٹا تھا۔مگر ان میں وہ صفات تم کہاں سے لاؤ گے جو میرے خدا نے ظاہر کی ہیں۔وہ مُحْی ، مُمِیت ، قدوس، مُهَيْمِن، جَبَّارٍ ، قَتَار اور خدا تعالیٰ کی ان گنت صفات کہاں سے پیدا کریں گے؟ کیا وہ یہ صفات ظاہر کر سکتے ہیں ؟ اگر یہ صفات تم کسی کے اندر دکھا دو گے تو میں مان لوں گا۔لیکن اگر یہ صفات نہیں تو پھر محض دعویٰ بکو اس ہی بکواس ہے۔فرمایا تو کہہ دے میرا رب تو وہ صلے دیتا ہے۔ہے جو زندہ ہے اور ایسے امور میں خود فیصلہ کر کے جھوٹے کو ذلیل کر عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أَنِيبُ۔میرا انحصار اسی پر ہے اور اسی کی مدد سے میں جیئوں گا۔تم ا جھوٹے خدا بنتے ہو اور میں سچے خدا کا پرستار ہوں اور اسی کا سہارا رکھتا ہوں۔ایک شخص منہ سے اپنے آپ کو ہاتھی کہے اور دوسرا ہاتھی پر چڑھا ہو تو دونوں میں سے کس کی طاقت زیادہ ہو گی۔اگر کوئی ممنہ سے کہے میں عربی گھوڑا ہوں اور اس کے