خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 296

خطبات محمود ہے۔297 * 1941 ڈھیروں پر اُگتے ہیں۔تو جہاں بارش کے بعد اچھی چیزیں پیدا ہوتی ہیں وہاں گندی بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔یہی قانون خدا تعالیٰ کا روحانی بارش کے متعلق ہے۔جب انبیاء آتے ہیں تو ان کی بعثت کے ساتھ کئی کمزور طبیعت کے لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید محض دعویٰ کر دینے سے ہی انسان اپنی بات منوا سکتا اور کامیاب ہو جاتا بعض دفعہ دانستہ اور بعض دفعہ نادانستہ طور پر ان مخفی خیالات کے ماتحت اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی ایم کی وفات کے بعد قریب کے زمانہ میں ہی چھ سات مدعیان نبوت پیدا ہو گئے۔جب تک تو آفات و مصائب کا زمانہ تھا اور مشکلات در پیش تھیں اس وقت تک کوئی مدعی نبوت نہ تھا۔جب تک آپ مکہ میں تھے اور نظارہ دکھائی دیتا تھا کہ مسلمانوں کو ماریں پڑ رہی ہیں، بائیکاٹ ہو رہے ہیں، گھر سے بے گھر کئے جاتے ہیں کوئی مدعی نبوت پیدا نہیں ہوا۔کیونکہ ان حالات میں دماغ میں یہ حسرت ہی پیدا رت ہی پیدا نہیں ہو سکتی تھی کہ ہم بھی ایسے دعوے سے عزت حاصل کریں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے فتوحات حاصل ہوئیں، اسلام کو غلبہ عطا ہوا تو لانچی طبائع نے جھوٹ بنا کر یا اپنے گندے خیالات سے متاثر ہو کر یہ خیال کیا کہ ترقیات کی یہ آسان راہ ہے اور یہ بات ہی دراصل ایک بہت بڑا ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ یہ مدعی یا تو بناوٹ سے کام لیتے اور جھوٹ بولتے ہیں اور یا اپنے لالچ اور حرص کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں اور انہی خیالات کے زیر اثر ان کو ایسے الہام بھی ہو جاتے ہیں۔تکلیف کے زمانہ میں کسی ایسے مدعی کا نہ ہونا ان کے باطل پر ہونے کا زبر دست ثبوت ہے۔مکہ کے زمانہ میں کوئی ایسا مدعی نہ تھا اور کوئی اس زندگی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ ماریں کھائے، گھر سے نکالا جائے وغیرہ وغیرہ۔اس وقت تک تو کسی کو یہ پتہ نہ تھا کہ رسول کریم صلى ال مدینہ میں جائیں گے، اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہو گی اور آپ دشمنوں پر غلبہ پائیں گے۔اس لئے کسی کے دل میں بھی یہ جوش نہ پیدا ہوتا تھا کہ آپ کی مثل بنا