خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 255

1941 256 خطبات محمود لوگوں میں خدانخواستہ کوئی کمزوری پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں اس بات کی جرآت ہوئی ہے۔بے شک ایک نقطہ نگاہ یہ بھی ہوتا ہے مگر اس موقع پر یہ صحیح نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض کمزور لوگ ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں مگر اس قسم کے چند کمزور طبع لوگ ہر جماعت میں پائے جاتے اور ہر جگہ ہوتے ہیں۔خود رسول کریم صلی یا نیلم کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے مدینہ کے قریب اپنا مشن پھیلانے کی جرات کی۔چنانچہ قرآن کریم میں جس مسجد ضرار کا ذکر آتا ہے اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ اسے گرا دیا جائے وہ اسی قسم کے لوگوں نے بنائی تھی۔وہاں منافقین جمع ہوتے تھے اور اسلام کے خلاف مشورے کیا کرتے تھے۔پس اگر رسول کریم صلی الم کے زمانہ میں اس قسم کے لوگ تھے تو یہاں کیوں نہ ہوں۔میں نے خود ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ میں اس مکان میں ہوں جس میں میری بڑی بیوی رہتی ہیں کہ اچانک مجھے نیچے گلی میں کچھ کھڑ کا معلوم ہوا اور ایسا القاء ہوا کہ گویا نیچے منافقین ہیں۔میں نے نالی کے سوراخ میں سے د دیکھا تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ دیواروں سے لگے کھڑے ہیں اور اندر جھانک کر کچھ دیکھنا چاہتے ہیں یا کان لگا کر سننا چاہتے ہیں۔جب انہیں معلوم ہوا کہ میں دیکھ رہا ہوں تو وہ بھاگے وہ تعداد میں جہاں تک یاد ہے کو تھے۔بھاگتے ہوئے ان میں سے بعض کو میں نے پہچان بھی لیا اور ایک کا علم تو اب تک ہے۔مگر بعض کے متعلق اللہ تعالیٰ نے عفو سے کام لیا اور میں ان کو دیکھ نہ سکا۔”1 اس رؤیا کے بعد جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جنات آسمانی باتوں کی ٹوہ لگاتے ہیں اور کوئی خبر مل جائے تو اس میں جھوٹ ملا کر آگے پھیلاتے ہیں اور حدیثوں میں ہے کہ کئی کئی گنے زیادہ جھوٹ ملا کر وہ باتیں پھیلاتے ہیں۔مولوی علی صاحب نے بھی جو صحابی ہونے کے مدعی ہیں مبالغہ سے کام لینا شروع کر دیا اور کہہ دیا کہ میاں صاحب خطبہ پر خطبہ دے رہے ہیں کہ قادیان میں ہزاروں کی