خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 229

1941 230 خطبات محمود پیدا ہو۔چنانچہ اگر کسی وقت غلط مشورہ ان کے سامنے پیش کر دیا جائے تو خلفاء اپنی جماعت کے افراد کو سمجھاتے ہیں کہ اس معاملہ میں تم نے فلاں غلطی کی ہے۔گویا یہ ایک مدرسہ ہے جس میں روزانہ لوگوں کی تربیت ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ اسلام کی برکات میں سے ایک بہت بڑی برکت ایک بہت بڑی برکت ہے جو ہمیں حاصل ہے۔ہماری جماعت چونکہ ایک غیر اسلامی گورنمنٹ کے ماتحت ہے اور چھٹیاں گورنمنٹ کے اختیار میں ہیں اس لئے ہم اپنی جماعت کے دوستوں کو مشورہ کے لئے سال میں صرف ایک دفعہ بلاتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں سال میں صرف ایک مجلس شوری کا انعقاد ہمارے لئے کافی نہیں ہو سکتا اگر ہر مہینے ہم ایک مجلس مشاورت منعقد کر سکیں بلکہ ہر مہینے کیا ہر پندرھویں دن ایک مجلس مشاورت منعقد کر سکیں تو یقینا ہمارے کام زیادہ اعلیٰ رنگ میں ہونے شروع ہو جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ سال میں ایک دفعہ کا مشورہ ہمارے لئے کافی نہیں۔یہ تو مجبوری کی وجہ سے ہم سال میں ایک دفعہ مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں ورنہ اگر ہم ہر مہینے یا ہر پندرھویں دن مجلس شوریٰ منعقد کر سکیں تو یقینا ہمارے کام زیادہ اعلیٰ رنگ میں ہونے شروع ہو جائیں اور ہماری جماعت کی دماغی تربیت بھی زیادہ اعلیٰ ہو جائے۔پس دوسروں کو تو یہ شکوہ ہے کہ سال میں ایک دفعہ مشورہ کیوں لیا جاتا ہے اور ہمیں یہ افسوس ہے کہ سال میں بارہ یا چوہیں دفعہ اپنی جماعت سے کیوں مشورہ نہیں لیا جاتا۔اسی طرح ایک اور غلطی بھی ان اخبار نویس صاحب کو لگی ہے مگر میں اس میں انہیں معذور خیال کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے اخبارات کی غلطی ہے کہ انہوں نے اس بات کو واضح نہیں کیا۔انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ ہماری جماعت آجکل یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ جماعت احمديد مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَةِ کانگرس میں شامل ہو یا مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَةِ مسلم لیگ میں شامل ہو حالانکہ ایسا کوئی سوال ہمارے زیر غور نہیں۔انہوں نے اس بات پر حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ جماعت احمدیہ کا خلیفہ گاندھی جی کی