خطبات محمود (جلد 22) — Page 177
1941 178 خطبات محمود نہ سزا نہ دینے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔یہ چیزیں ایسی نہیں کہ عام لوگوں کو بتائی جا سکیں۔اسلام نے معمولی انسان پر بھی حسن ظنی کا حکم دیا ہے تو کیا خلیفہ ہی کا وجود ایسا ہے کہ اس پر کوئی حسن ظنی نہیں کی جا سکتی؟ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے متعلق حسن ظنی سے کام لیتے ہیں، بیٹوں کے متعلق حسن ظنی کرتے ہیں ہمارا بیٹا جھوٹ نہیں بول سکتا۔تو کیا پھر بدظنی خلیفہ کے لئے ہی ہے؟ اگر کوئی شخص بیعت کی اہمیت اور خلیفہ کی حیثیت کو سمجھے تو خلیفہ کا حق اسے دینا پڑے گا اور یہ خلیفہ کا حق ہے کہ سوائے ایسے شرعی حدود والے جرائم کے جن میں سزا دینا اس کے اختیار میں ہے باقی امور میں چاہے تو کسی کو سزا دے اور چاہے دے۔رسول کریم صلی الم کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ ایک شخص کے متعلق ذکر فرما رہے تھے کہ وہ بہت برا آدمی ہے کہ اتنے میں وہ شخص وہیں آ گیا آپ اس کے لئے کھڑے ہو گئے۔اپنا گڈا دے دیا اور عزت سے بٹھایا۔جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ یا رَسُولَ اللہ ! آپ بھی ایسا کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا اس کے شر کو دور کرنے کے لئے مصلحت کا تقاضا یہی تھا۔7 یعنی اگر اسے پتہ لگ جائے کہ مجھے اس کی برائیوں کا علم ہو چکا ہے تو شرارت میں بڑھ جائے گا بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو علم ہو جائے کہ اس کے بھائی یا باپ کو علم ہو چکا ہے کہ وہ چور ہے تو وہ اور بھی دلیر ہو جاتا ہے لیکن اگر سمجھے کہ علم نہیں تو کوشش کرتا ہے کہ چوری چھوڑ دے تا ان کو پتہ نہ لگ سکے۔اس لئے عظمند جب اس قسم کی مصلحت دیکھیں تو دوسرے کی کمزوری کو اس پر ظاہر نہیں کرتے تا وہ بے حیا نہ ہو جائے۔پس سزا دینے میں کئی باتوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے اور ان حکمتوں کو اگر تم سمجھ نہیں سکتے تو خواہ مخواہ اعتراض نہ کرتے رہو۔بے شک بعض کو سزا نہیں دی جاتی مگر اس میں حکمت ہوتی ہے۔بعض اوقات اسے سزا دینے ے ایسے فتنہ کا دروازہ کھل جاتا ہے جو سلسلہ کے لئے مضر ہوتا ہے اور بعض اوقات مد نظر رکھنا پڑتا ہے کہ اگر اسے پتہ لگ گیا کہ اس کی کمزوری ظاہر ہو چکی ہے تو