خطبات محمود (جلد 22) — Page 172
1941 173 خطبات محمود سکتا کہ تم خود کیوں نہیں دیتے بلکہ اس پر اس نصیحت کا اثر ہو گا لیکن اگر کوئی ایسا شخص جس پر زکوۃ فرض ہے خود تو نہ دے مگر دوسرے سے کہے کہ کیوں نہیں دیتے تو وہ یہی کہے گا کہ تم خود کیوں نہیں دیتے پس اس ناظر کو اگر کسی نے سلام نہیں کہا تھا تو بجائے اس کے کہ اس پر اعتراض کرتا اسے چاہئے تھا کہ خود سلام کہنے میں پہل کرتا کیونکہ سلام کرنے کا حکم دونوں کے لئے یکساں ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شعر سنا ہوا ہے کہ:۔وہ نہ آئے تو تُو ہی چل اے میر تیری کیا اس میں شان گھٹتی ہے اگر رسول کریم صلی این نام کا حکم ایک بھائی نہیں مانتا تو کیوں نہ ہم خود اس پر عمل کر لیں۔پس اگر شکایت درست تو یہ فعل عقل کے خلاف اور اخلاق سے گرا ہوا ہے۔یہ کہیں حکم نہیں کہ سلام صرف چھوٹا کرے بڑا نہ کرے۔اگر ماتحت میرا اپنا یہ طریق ہے کہ جب خیال ہوتا ہے کر دے۔میرا اپنا نے نہیں کیا تو افسر خود پہلے تو میں خود پہلے سلام کہہ دیتا ہوں۔بعض دفعہ خیال نہیں ہوتا تو دوسرا کر دیتا ہے ایسی باتوں میں ناظروں کو اعتراض کرنے کی بجائے خود نمونہ بننا چاہئے۔ایک اور شکایت مجھے امور عامہ کے واسطہ سے پہنچی ہے۔اس کے متعلق بھی میں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص نے کہا ہے کہ یہاں انصاف نہیں ہوتا۔ایک ہی جرم پر بعض لوگوں کو سزا ہو جاتی ہے اور بعض کو نہیں ہوتی۔فلاں آدمی نے یہی جرم کیا تو اسے سزا نہیں ہوئی اور فلاں کو ہو و گئی۔ایسے اعتراض بھی کئی لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو جاتے ہیں لیکن ایسے اعتراض کرنے والے دراصل انسانیت کے سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔یہ اگر جرم ہے تو یہ آنحضرت صلی الم کے زمانہ میں بھی ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے زمانہ میں بھی ہوا اور ہمیشہ ہوتا جائے گا۔ہر ایک کو ایک ہی جرم پر سزا دینا انصاف کے لئے ضروری نہیں۔اللہ تعالیٰ بھی کسی کو