خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 150

1941 151 خطبات محمود قبول وہ اپنی قبر آپ کھودتی ہے۔اگر دس سال کے اندر اندر ہماری جماعت نے فتح نہ پائی اور وہ تمام راہیں جو ارتداد کی ہیں بند کر کے وہ تمام دروازے جو اسلام کرنے کے ہیں کھول نہ دیئے تو ہماری جماعت کی زندگی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔3 1928ء کی مجلس مشاورت میں بھی میں نے کہا تھا کہ :۔66 اسلام کے لئے نہایت خطرناک دن ہیں۔قریب ہے کہ چند سال کے اندر اندر قو میں فیصلہ کر لیں کہ کون زندہ رہنے کے قابل ہے اور کسے برباد ہو جانا چاہئے۔“4 غرض میں نے بتا دیا تھا کہ اگر دس سال کے اندر اندر ترقی نہ کی گئی تو اس کے بعد ایک ایسی مصیبت کا دروزہ کھلنے والا ہے جس کا اسلام اور احمدیت کو خطرہ گا۔چنانچہ اس کے عین دس سال کے بعد 1939ء میں موجودہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں 1942ء ہی ایسا سال ہے جو فیصلہ کن معلوم : ہے۔اس لحاظ سے نہیں کہ جنگ بند ہو جائے گی بلکہ اس لحاظ سے کہ ممکن ایک قوم ایسی غالب آ جائے کہ اس کے بعد جنگ صرف دفاعی رہ جائے۔یہ امر مشتبہ نہ رہے کہ کونسی قوم جیتے گی اور کونسی ہارے گی۔ނ پس ان حالات کو دیکھتے ہوئے جماعت کے دوستوں کو خصوصیت دعائیں کرنی چاہئیں۔اس وقت ہماری سب سے زیادہ قیمتی چیز خطرہ میں ہے اور وہ ہمارا دین اور ہمار امذہب ہے۔بے شک انگلستان خطرے میں ہے کیونکہ ڈر ہے کہ جرمنی انگلستان پر قبضہ نہ کر لے۔بے شک فرانس خطرے میں ہے کیونکہ گو وہ شکست کھا چکا ہے مگر ایک ابھی ایسا ہے جو جرمنی کے ماتحت نہیں اور اس وجہ سے جرمنی اسے پورے طور پر دبا نہیں سکتا۔اگر وہ حصہ وہ حصہ بھی جرمنی کے قبضہ میں چلا جائے تو وہ پورے طور پر اسے کچل سکتا ہے۔اسی طرح بے شک مشرقی یورپین ممالک خطرے میں ہیں کیونکہ جرمنی ان پر غالب آ سکتا اور انہیں اپنا تابع بنا سکتا حص ہے۔