خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 112

*1941 112 خطبات محمود یہ تھا کہ مجھے مسواک دو حضرت عائشہ نے مسواک لے کر آپ کو دے دی دی مگر چونکہ آپ میں اس وقت طاقت نہیں تھی اور آپ مسواک کو چبا نہیں سکتے تھے لئے آپ نے پھر اشارہ فرمایا کہ اس کو چبا دو۔چنانچہ انہوں نے مسواک کو چبا کر رسول کریم صلی اللہ نیلم کی خدمت میں پیش کی اور آپ نے اس وقت بھی مسواک کی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں مجھے خوشی ہے کہ رسول کریم صلی ایم کی زندگی کے آخری لمحات میں میرا لعاب دہن آپ کے لعاب دہن سے ملا۔3 لیکن اس زمانہ میں میرا اندازہ ہے کہ شائد سو میں سے نوے آدمیوں کے ممنہ سے بدبو آتی ہے اور پھر ان نوے فیصدی لوگوں میں سے بھی ایک کثیر حصہ اس بے وقوفی میں مبتلا ہے کہ وہ سمجھتا ہے شاید بات سننے والا کان کی بجائے ناک سنتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ ایک عام رواج ہے۔خصوصاً ان لوگوں میں جن پر صوفیاء کا اثر چلا آتا ہے کہ وہ بات کرتے وقت بجائے اس کے کان کی طرف منہ کریں دوسرے کی ناک کے پاس مُنہ لے جا کر بات شروع کریں گے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام سنڈ اس جو ان کے منہ میں بھرا ہوا ہوتا ہے دوسرے کے ناک میں چلا جاتا ہے۔میں نے ان علاقوں میں یہ مرض بہت دیکھا ہے جو ایک عرصہ سے پیروں کے ماتحت چلے آتے ہیں مثلاً گجرات ہے اس ضلع کے رہنے والے جب بھی بات کرنے لگیں گے دوسرے کے عین ناک کے قریب اپنا منہ لے جائیں گے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے بات کریں گے۔میں اس ذریعہ سے اپنی جماعت کے لوگوں میں ہمیشہ سے گولیکی اور سدو کی کے رہنے والوں کو پہچان لیتا ہوں۔جب بھی ان میں سے کوئی مجھ سے بات کرنے لگے میں اس سے پوچھ لیتا ہوں کہ آپ گولیکی کے ہیں یا سدو کی کے۔اور شاید سو میں سے ایک دفعہ غلطی ہو ورنہ ننانوے دفعہ میرا قیاس صحیح ہوتا ہے اوروہ ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ کے رہنے والے ثابت ہوتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے سننے کے لئے ناک تو نہیں بنائی خدا نے تو سننے کے لئے کان بنایا ہے۔پس اگر کوئی شخص اپنے منہ کو