خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 92

خطبات محمود 92 $1941 شخص ایک تیسرے شخص سے اس بارہ میں پوچھتا ہے کہ کیا وہ لاہور چلا گیا ہے؟ سمجھتا خص تعلق ہے۔اور وہ جھوٹ بول کر کہتا ہے کہ نہیں تو لازماً یہ بھی اب لاہور نہ جائے گا اور دوسرے شخص کے سامنے جھوٹا بنے گا اور اس دوسرے شخص کا سفر بھی ضائع جائے گا۔تو بظاہر انسان یہ خیال کرتا ہے کہ سچ بولنے کا کسی دوسرے کے ساتھ کیا تعلق ہے۔حالانکہ اگر ایک شخص سچ بولتا ہے تو وہ سب کو آرام پہنچاتا ہے اور اگر ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو وہ سب کو تکلیف پہنچاتا ہے۔اسی طرح محنت کرنا بھی انہی اخلاق میں سے ہے جن کا دوسروں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔بظاہر انسان ہے کہ میں کام کروں یا نہ کروں دوسروں کا اس کے ساتھ کیا حالانکہ وہ مشین کا ایک پرزہ ہوتا ہے اور اس کی خرابی کے ساتھ ساری مشین کی خرابی اور اس کی عمدگی کے ساتھ ساری مشین کی عمدگی وابستہ ہوتی ہے اگر یہ پرزہ ناکارہ ہو گا تو مشین پر لازماً اثر پڑے گا۔جیسے دو بیل ایک گاڑی میں بجتے ہوئے ہوں تو کیا ایک کہہ سکتا ہے۔یہ امر میری مرضی پر منحصر ہے کہ میں چلوں یا نہ چلوں۔وہ دونوں چلیں گے تو گاڑی چلے گی اور اگر ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے گا تو گاڑی نہیں چل سکے گی۔اسی طرح تمام بنی نوع انسان مشین کے پرزے ہیں۔ایک ملک کے رہنے والے اپنی حدود میں مشین کے پرزے ہیں۔اور ایک شہر کے رہنے والے ان پرزوں سے زیادہ قریب کے پرزے ہیں۔اگر ان میں سے ایک بھی صحیح طور پر اپنے فرائض کو سر انجام نہیں دے گا اور محنت سے جی چرائے گا تو لازماً اس کا دوسروں پر بھی اثر پڑے گا۔قادیان میں اس کی مثالیں کثرت سے ملتی رہتی ہیں۔ایک شخص محنت نہیں کرتا اور نہ اپنے بیوی بچوں کے گزارہ کی کوئی صورت اختیار کرتا ہے لوگ اسے سمجھاتے ہیں کہ دیکھو مزدوری کرو، محنت کرو اور اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا انتظام کرو۔مگر وہ کہتا ہے تم کو کیا میں محنت کروں یا ہے کہ