خطبات محمود (جلد 22) — Page 694
* 1941 694 خطبات محمود آپ کی مراد ایسے علوم سے تھی جو اس زمانہ کے لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔ایسی باتوں کو انبیاء اس لئے نہیں چھپاتے کہ وہ بتانا نہیں چاہتے بلکہ اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ نے اُس زمانہ کے لئے مقدر نہیں کی ہوتیں۔ایسی باتوں کو اللہ تعالیٰ بھی چھپا لیتا ہے۔رؤیا و الہام ایسے کلام میں کرتا ہے کہ جس کے اس زمانہ کے لوگ سیدھے سادے معنے کر لیتے ہیں اور صحیح مفہوم نہیں سمجھ سکتے۔جب وہ باتیں اپنے زمانہ میں آکر پوری ہوتی ہیں تو پھر اصل معنے ان کے کھلتے ہیں۔تو ہر نیکی نیت کے ساتھ بنتی ہے۔نیت اچھی نہ ہو تو کچھ نہیں۔شعراء اپنے کلام میں کس قدر تکلفات کرتے ہیں۔دُور دُور تشبیہات لاتے ہیں۔کسی چیز کی تشبیہ کے لئے ان کی نظر ستاروں کی طرف جاتی ہے اور کسی کے لئے تحت الثریٰ کی طرف۔لیکن اس سب کوشش کا کوئی اثر نہ ان کی ذات پر ہوتا ہے، نہ دنیا پر سوائے گندے اثر کے۔مگر انبیاء سیدھی سادی باتیں دنیا کے سامنے کرتے ہیں۔مگر چونکہ ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ دنیا کی ہدایت ہو جاۓ۔اس لئے ان کی باتیں لوگوں پر اثر کرتی ہیں۔تو نیت اور ارادہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے کلام میں تاثیر پیدا ہوتی ہے لیکن تکلفات اور مصنوعی باتیں جن کا مقصد صرف اپنے لئے عزت و جاہ کی تلاش ہو۔ان میں برکت نہیں ہوتی۔پس باہر سے جو دوست آنے والے ہیں میں ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ روانہ ہونے سے پہلے اپنی نیتوں کو نیک کریں اور جو دوست آ چکے ہیں اگر انہوں نے کوئی بھی نیت نہ کی ہو تو اب کر لیں اور اگر کی تھی، اس میں خرابی تھی تو اسے اب درست کر لیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں غلطی کی اصلاح کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔وہ یہ نیت کر لیں کہ یہاں آنے کی غرض اعلائے کلمۃ اللہ ہو گی۔اگر وہ یہ نیت کر کے آئیں گے تو انہیں اپنے اوقات یہاں صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق بھی ملے گی۔لیکن اگر نیت بُری ہو گی یا وہ بے نیت ہوں گے تو اس کی توفیق بھی انہیں نہ مل سکے گی۔یہ جو ہر سال جلسہ کے موقع پر شکایت ہوتی ہے کہ جلسہ گاہ سے باہر اور دکانوں پر لوگ شور کرتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کی کوئی