خطبات محمود (جلد 22) — Page 693
* 1941 693 خطبات محمود لیکچر دیتے یا خطبہ پڑھتے ہیں وہ کمال ہوتا ہے۔میں نے پوچھا اس میں کیا ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ ہمارے پیر صاحب کے لیکچر تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو چار آنے والا ہوتا ہے وہ تو آپ جیسا ہی ہوتا ہے۔خدا رسول کی باتیں کرتے ہیں۔دوسرا آٹھ آنے والا ہوتا ہے اس کی کوئی بات سمجھ میں آتی ہے اور کوئی نہیں۔تیسرا ایک روپیہ والا ہوتا ہے اور وہ تو حرام ہے اگر بڑے بڑے مولوی بھی کچھ سمجھ سکیں۔اور ظاہر ہے کہ ایسا لیکچر دے کر اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا کوئی ثواب اسے ملے گا تو یہ خام خیالی ہے۔اس لیکچر کی غرض دین کی اشاعت یا تقویٰ نہیں ہوتی بلکہ لوگوں پر رُعب ڈالنا ہوتی ہے۔وعظ کے معنے تو یہ ہوتے ہیں کہ وعظ کرنے والا وہی ہے بات کہے جو سننے والوں کے دل میں ہو۔واعظ سننے والوں کے دل کی باتیں نکالتا اور اسی لیکچر کا ثواب ہوتا ہے لیکن جس کی غرض یہ ہو کہ دوسروں پر رعب پڑے اور ان کو بتایا جائے کہ میرے پاس کچھ ایسی باتیں ہیں جو میں نے چھپائی ہوئی ہیں اس کا کوئی ثواب نہیں ہو سکتا۔میں نے ایک جلسہ سالانہ پر عرفانِ الہی کے موضوع پر تقریر کی۔ایک شخص نے مجھے رقعہ لکھا۔معلوم نہیں وہ احمدی تھا یا غیر احمدی۔اس نے لکھا کہ آپ نے تو غضب کیا جو اتنی زیادہ باتیں بیان کر دیں۔پیر لوگ تو ان میں سے ایک ایک دس دس سال خدمتیں کرانے کے بعد بتاتے تھے۔حالانکہ جو شخص اس خیال کا ہو وہ پیر کیسا؟ جب وہ اس علم کو جو خدا تعالیٰ نے اسے دیا ہے چھپاتا ہے۔ہر واعظ جو باتیں اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں پر اس کا رعب پڑے اور وہ سمجھیں کہ کچھ باتیں اور بھی اس کے پاس ہیں جو یہ خدمت لے کر بتائے گا۔اس کا وعظ وعظ نہیں بکواس ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے تو سب کچھ بتا دیتے ہیں۔سوائے اس کے کہ کوئی بات بتانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روک ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جو یہ فرمایا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں بیان نہیں۔وہ میرے بعد آنے والا یعنی آنحضرت صلى الله وسلم ہی سمجھائے گا۔3 تو اس سے کر سکتا۔وہ۔