خطبات محمود (جلد 22) — Page 691
* 1941 691 خطبات محمود قرب اور وصال اور دیدار کی خاطر پڑھتا ہوں۔اور یہ ہے اصل نیت ورنہ یہ نیت نہیں کہ چار رکعت فرض نماز ظہر۔ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ جو نماز ظہر پڑھنے کے لئے کھڑا ہو اور اسے پتہ نہ ہو کہ ظہر کے فرض چار ہیں یا دو۔یہ تو اس مسئلہ کو ایک کھلونا بنا لیا گیا ہے ورنہ مفہوم اس کا صرف اتنا ہی ہے کہ انسان اپنے ارادہ اور نیت کو درست کر کے نماز پڑھے۔ریاء اور لوگوں کو دکھانے کے لئے نہ پڑھے۔یا محض عادتاً نہ پڑھے۔بعض لوگوں کو نماز پڑھنے کی عادت ہو جاتی ہے۔جیسے بعض لوگوں کو افیون کھانے کی عادت ہوتی ہے یا بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ صبح صبح اپنے کسی دوست کے پاس جا کر بیٹھتے اور باتیں کرتے ہیں۔اگر وہ دوست کسی دوسری جگہ چلا جائے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کو نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے کی عادت ہو جاتی ہے۔پھر کئی لوگ اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ دوسرے لوگ کہیں یہ کیسا اچھا آدمی ہے۔بڑا نمازی ہے۔ایسا شخص خواہ ہزار دفعہ پیچھے اس امام کے۔چاہے امام کو انگلیاں مار مار کر اشارہ کرے اس کی نماز نہ ہو گی کیونکہ گو وہ منہ سے کہتا ہے چار رکعت نماز فرض۔مگر وہ فرض ادا نہیں کرتا وہ تو بندوں کے لئے نماز پڑھتا ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے نہیں اور جو بندوں کے لئے پڑھے وہ یہ کیونکر کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرض ادا کرتا ہے یا جو عاد تا ادا کرتا فرض ادا نہیں کرتا۔جس طرح جس شخص کو افیون کھانے کی عادت ہو وہ ہے وہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کا کوئی فرض ادا کر رہا ہے۔بلکہ وہ تو اپنی عادت پوری کرتا ہے یا جو اپنے دوست کی بیٹھک میں بیٹھ کر باتیں کرتا ہے وہ کوئی فرض ادا نہیں کرتا بلکہ اپنی عادت پوری کرتا ہے۔محض ممنہ سے فرض کہہ دینے سے فرض ادا نہیں ہو جاتا۔نیت کا یہی مفہوم تھا جسے لوگوں نے بگاڑ لیا۔یہی بات اسلام کے ہر ہے۔جیسا کہ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا ہے کہ الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔جب تک کسی عمل کے ساتھ نیت درست نہ ہو وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔رمضان کے دنوں میں بعض بچے بھی روزے رکھتے ہیں۔وہ ماؤں سے لڑتے ہیں کہ عمل میں الله سة