خطبات محمود (جلد 22) — Page 665
خطبات محمود ہے۔665 * 1941 غرض تباہی کے سامانوں کے لحاظ سے یہ جنگ پہلے ہی بہت خطرناک تھی لیکن بہت سے نادان اس وقت یہ سمجھا کرتے تھے کہ یہ جنگ یورپ میں لڑی جا رہی ہے اور ان ہوائی جہازوں، ٹینکوں، توپوں اور گولہ بارود سے انگریزوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، فرانسیسیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، جرمنی اور اٹلی والوں کو نقصان پہنچ رہا۔ہمیں اس جنگ سے کیا واسطہ ہے؟ لیکن اب یہ ساری دنیا میں ہی پھیل رہی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ تباہی کے سامان جو پچھلے دو سالوں میں یورپ میں استعمال ہوئے اب یورپ امریکہ اور ایشیا سب جگہ استعمال ہوں گے اور یہ جنگ ہندوستان کے تو اس قدر قریب پہنچ چکی ہے کہ اب کلکتہ وغیرہ کو آسانی کے ساتھ بمبارڈ کیا جا سکتا ہے۔فاصلہ کے لحاظ سے بے شک کلکتہ پنجاب سے دور نظر آتا ہے لیکن اگر ہم اس بات کو دیکھیں کہ ہمارے ملک میں دفاع کے سامان بہت کم ہیں تو یہ فاصلہ کی زیادتی کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔باقی ساری قومیں ہندوستان سے تعداد میں بہت کم ہیں مگر ان کے پاس دفاع کے سامان ہندوستان سے بہت زیادہ ہیں۔اٹلی ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی ہندوستان کی آبادی کا ساتواں حصہ ہے مگر اٹلی کی فوج ہندوستان کی فوج سے دس گنے زیادہ ہے۔گویا ہندوستان سے دس گنے زیادہ فوج کو ہندوستان سے ہیں گنے کم علاقہ کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔اگر اتنی ہی اگر فوج ہندوستان کے پاس ہو۔مثلاً ان کی فوج کا اندازہ ستر لاکھ کیا جاتا ہے اب ستر لاکھ فوج ہندوستان کے پاس ہو تب بھی وہ اس خوش اسلوبی سے ہندوستان کا دفاع نہیں کر سکتی جس خوش اسلوبی سے اٹلی کی فوج اپنے ملک کا دفاع کر سکتی ہے کیونکہ اٹلی کے ایک ایک میل پر اگر دس دس سپاہی کھڑے ہو سکتے ہیں تو ہندوستان کے ایک ایک میل پر بمشکل آدھا سپاہی کھڑا ہو گا۔تو کئی لوگ پہلے اس غلط فہمی میں مبتلا تھے بلکہ اب تک بعض لوگ اس غلطی فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ جنگ ہندوستان سے بہت دور ہے۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ اب تو یہ جنگ یوں بھی قریب آچکی ہے اور پھر حالات کے لحاظ سے تو ہندوستان کو بہت زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اس کے پاس