خطبات محمود (جلد 22) — Page 666
* 1941 666 خطبات محمود دفاع کا کوئی سامان نہیں۔ہندوستان کی حالت بالکل ایسی ہی ہے جیسے بعض لوگ کتے کی دم میں پیپر باندھ دیتے ہیں۔کتا دوڑتا جاتا ہے اور پیپہ ہر جگہ ٹکراتا پھرتا ہے۔خود ہندوستان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنی حفاظت کر سکے ورنہ اسے اس بات کی آزادی ہے کہ وہ دفاع کے متعلق خود کوئی تجویز سوچ سکے، وہ مُردہ بدست زندہ کے طور پر انگریزوں کے ہاتھ میں ہے، وہ ہندوستان سے جتنی فوج بھرتی کرنا چاہیں اتنی ہی فوج بھرتی ہو سکتی ہے پھر جتنا سامانِ جنگ تیار کرنا چاہیں اتنا ہی تیار ہو سکتا ہے اور جس جگہ مقابلہ کرنا چاہیں اسی جگہ مقابلہ ہو سکتا ہے۔اگر وہ ہندوستان کی فوجوں کو باہر بھیجنا چاہیں تو باہر بھیج سکتے ہیں اور اگر ہندوستان کے اندر رکھنا چاہیں تو اند ررکھ سکتے ہیں۔خود ہندوستانیوں کی آواز کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ایسی صورت میں تھوڑے بہت سامان جو ہندوستانیوں کو حاصل ہیں ان کو بھی استعمال نہ کرنا در حقیقت بہت بڑی حماقت ہے۔یہ خیال کر لینا کہ یہ صرف انگریزوں کی جنگ ہے اور اس میں اگر نقصان ہوا تو انگریزوں کا ہی ہو گا درست نہیں۔اس لئے کہ اگر ہندوستان پر حملہ ہوا تو انگریزوں سے بہت زیادہ ہندوستانیوں کو نقصان پہنچے گا۔اگر ہندوستان پر بمباری ہو تو انگریزوں کی بڑی سے بڑی آبادی کلکتہ میں ہے مگر وہاں بھی ہندوستانیوں کے مقابلہ میں ان کی کوئی نسبت ہی نہیں انگریز وہاں زیادہ سے زیادہ ایک فی صدی ہوں گے۔کلکتہ کی آبادی اس وقت پندرہ لاکھ سے اوپر ہے اور انگریز زیادہ سے سو زیادہ پندرہ ہزار ہوں گے۔پس یہ یقینی بات ہے کہ اگر وہاں بمباری کے نتیجہ میں آدمی مریں گے تو ان میں سے ایک انگریز ہو گا اور ننانوے ہندوستانی ہوں گے مگر پھر بھی ہم میں سے کئی ہیں جو حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس جنگ سے سے کیا ہے؟ اور میں خیال کرتا ہوں کہ ابھی تک ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے دلوں میں اس جنگ کی اہمیت کا احساس پورے طور پر پیدا نہیں ہوا۔ان میں تبدیلی ضرور ہوئی ہے اور میرے متواتر خطبات کی وجہ سے ان کے خیالات ضرور بدل رہے ہیں مگر ابھی تک جماعت کے تمام افراد کے دلوں میں یہ احساس