خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 634

* 1941 خطبات محمود 634 دوستوں کو تحریک کی جا رہی تھی ورنہ یوں قربانیاں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔وہ جاری رہیں گی اور کسی نہ کسی صورت میں جماعت سے ان قربانیوں کا مطالبہ ہمیشہ گا۔اس وقت سوال ایک معین قربانی کا ہے اور یہ قربانی تین سال کے رہے ، کام بعد ختم ہو جائے گی۔پس جس طرح دن ڈوبتے وقت مزدور زیادہ محنت سے کرنے لگ جاتا ہے اسی طرح چونکہ تحریک کے مالی قربانی کے حصہ کا دن اب ڈوبنے والا ہے اس لئے پہلے سے بھی زیادہ زور سے کام کرو تاکہ شام سے پہلے کام ختم ہو جائے۔دنیا میں انسان جب یہ سمجھتا ہے کہ اب وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں گزر رہا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی زیادہ کوشش کیا کرتا ہے۔اسی طرح ان تین سالوں میں خدا تعالیٰ کو جس قدر خوش کرنا چاہتے ہو خوش کر لو کہ نہ معلوم پھر ایسا موقع میسر آئے یا نہ آئے۔میں نے جماعت کے دوستوں کو بارہا بتایا ہے کہ اس سرمایہ سے ایک بہت بڑی جائداد پیدا کی جا رہی ہے جس کی آمد تحریک جدید کے اغراض اور اشاعت دین پر صرف کی جائے گی۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ تحریک جدید کی میعاد کے ختم ہوتے ہی یہ جائداد کلی طور پر آزاد ہو جائے۔اس جائداد کو ہم نے اقساط پر خریدا ہوا ہے اور تمام اقساط کی ادائیگی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب پھر ہماری جماعت کے تمام دوست کمر ہمت گس کر کھڑے ہو جائیں اور ان آخری تین سالوں میں زیادہ سے زیادہ مالی قربانی کا نمونہ پیش کریں۔وعدوں کے لحاظ سے بھی اور پھر ان وعدوں کو بروقت پورا کرنے کے لحاظ سے بھی۔میں نے اس تحریک میں جیسا کہ شخص میں نے بتایا ہے بعض قواعد مقرر کئے تھے اور میں نے کہا تھا کہ جو چندہ کوئی سال دے اس پر ہر سال اگر معمولی زیادتی بھی کرتا چلا جائے تو وہ سَابِقُونَ میں شامل ہو جائے گا۔میں سمجھتا ہوں میری اس تحریک پر قریباً ہر احمدی نے اپنے چندے کو اس رنگ میں بدل دیا ہے کہ وہ اپنے چندہ میں ہر سال کچھ نہ کچھ اضافہ کرتا۔گو وہ اضافہ کیسا ہی معمولی کیوں نہ ہو اور اگر بعض نے ابھی تک اس رنگ میں