خطبات محمود (جلد 22) — Page 606
خطبات محمود 606 * 1941 پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے مومنو! ہماری تیسری نصیحت یہ ہے کہ غلبہ کے بعد تم مرابطہ کیا کرو۔اگر تم مرابطہ کرو تو پھر حد بندی کوئی نہیں۔قیامت تک مرابطہ کر سکو تو قیامت تک تمہارا غلبہ رہے گا اور اگر دنیا کے پردہ پر کوئی ایسی قوم مل سکے جو غلبہ کے بعد ہمیشہ مرابطہ کرے تو اسے کبھی شکست نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ہر وقت مرابطہ کر رہی ہو گی۔اگر شیطان نظام کی بغاوت کی صورت میں اپنا سر نکالے گا تو اسے کچل دے گی، اگر شستی اور غفلت کی صورت میں اپنا سر نکالے گا تو اسے کچل دے گی، اگر نشوں کی عادت کی صورت میں اپنا سر نکالے گا تو اسے کچل دے گی، اگر لہو و لعب کی صورت میں اپنا سر نکالے گا تو اسے کچل دے گی۔ایسی قوم کو شیطان بھلا برباد کس طرح کر سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم اصبروا پر بھی عمل کر لو۔اگر تم صَابِرُوا پر بھی عمل کر لو۔تو پھر تمہارے سامنے تیسرا مقام رابطوا کا آئے گا۔اس وقت تمہارا فرض ہو گا کہ تم چوکس اور ہوشیار رہو کیونکہ شیطان تمہیں غافل پا کر کناروں سے آنا چاہے گا اور تمہارا فرض ہو گا کہ اس کی مدافعت کرو۔نادان اس آیت کو پڑھتے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس میں جسمانی ملکوں کا ذکر ہے حالانکہ جسمانی ملکوں کی حفاظت کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی روحانی ملکوں کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔کیا دنیا میں کوئی بھی عقلمند ایسا ہے جو روح کو تو تباہ ہونے دے مگر جسم کو بچالے۔ہر عقلمند یہ چاہے گا کہ اس کی روح بیچ جائے جسم اگر ہلاک ہوتا ہے تو ہلاک ہو جائے۔اسی طرح ہر عظمند اس بات پر بھی متفق ہو گا کہ جسمانی ملک اگر ہاتھ سے جاتا ہو تو بے شک چلا جائے مگر روحانی ملک ہاتھ نہیں جانا چاہئے۔پس اس آیت میں قرآن کریم نے دائگی ترقی حاصل کرنے کا ایک بے نظیر گر بتایا ہے۔فرمایا ہے جو شخص اضیڈڈا پر عمل کرے گا۔شیطان اس کے نفس کے لئے مر جائے گا مگر اس کے ہمسایہ کے لئے رہ جائے گا۔پھر جو Ceris صَابِرُوا پر عمل کرے گا وہ اپنے ہمسایہ کو بھی شیطان کے حملہ سے بچالے گا۔اس کے بعد دشمن نکل تو جائے گا مگر وہ کہیں دور نہیں جائے گا بلکہ باہر چھپ کر بیٹھ رہے گا