خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 596

* 1941 596 خطبات محمود چونکہ شروع سے کمزور ہے اس لئے میں کبھی زیادہ اونچی جگہ نہیں جا سکتا۔قطب صاحب کی لاٹ پر میں کئی دفعہ گیا ہوں مگر کبھی اس کی چوٹی پر نہیں چڑھ سکا۔صرف بچپن میں ایک دفعہ بیٹھے بیٹھے اس کی چوٹی کے جنگلے تک پہنچا تھا۔اسی طرح پہاڑوں پر جہاں پاس کھڑ ہو اور منڈیر نہ ہو میرا سر چکرانے لگ جاتا ہے۔تو جن لوگوں کے معدے کمزور ہوں ان کی کیفیت اکثر اسی قسم کی ہوتی ہے اور بعض جن کے اعصاب زیادہ کمزور ہوں ان پر ایسی حالت میں جنون کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور عواقب کو سوچے سمجھے بغیر وہ نیچے کود پڑتے ہیں حالانکہ جس خطرہ سے وہ ڈر رہے ہوتے ہیں وہ کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہوتا۔صرف ان کے دل کا خوف ہوتا ہے۔ایسی خوف کی حالت میں ہم دوسرے کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ دشمن کا خوب مقابلہ کرو کیونکہ وہاں کوئی بیرونی خوف تو ہوتا نہیں صرف نفس کے اندر کمزوری پیدا ہو جانے کی وجہ سے خوف کی ایک صورت رونما ہوتی ہے۔اس لئے ایسی صورت میں ہم دوسرے کو یہی نصیحت کریں گے کہ صبر کرو اور اپنے نفس کو - قابو میں رکھو۔پس اضبرُ ڈا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے شیطان کا حملہ حقیقی نہیں ہوتا۔صرف ڈراوا ہوتا ہے۔انسان خیال کرتا ہے کہ اگر فلاں خواہش کا میں نے مقابلہ کیا تو تباہ ہو جاؤں گا۔مگر جب وہ مقابلہ کر لیتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اوہو! بات تو کچھ بھی نہیں تھی۔تو شیطان کا حملہ چونکہ حقیقی نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ شیطان کا مقابلہ کرو بلکہ صرف یہ کہا ہے کہ اصبروا صبر کرو اور اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھو۔پھر فرماتا ہے۔وَصَابِرُوا۔جب انسانی نفس شیطانی حملہ کا مقابلہ کر لے تو پھر شیطان باہر سے حملہ کر دیتا ہے اور باہر سے جو حملہ ہو اس میں شیطان کے مقابلہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ حملہ دوسروں کے ذریعہ سے کروایا جاتا ہے۔یہاں صَابِرُوا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔صَابِرُوا کے معنے ایک دوسرے کو مقابلہ کی تلقین کرنے کے ہیں۔یعنی زید بکر کو کہے۔بکر، عمرو کو کہے۔عمرو خالد کو کہے اور اسی لئے