خطبات محمود (جلد 22) — Page 586
خطبات محمود 586 * 1941 نقصان کا موجب ہوتے ہیں۔یہ ایسے ہوتے ہیں جیسے کوئی کوڑھی ہو۔یہ نہیں ہو سکتا کہ جو شخص کہے میں نے سوچ سمجھ لیا ہے اور میں بیعت کرنا چاہتا ہوں ہم اسے داخل نہ کریں۔سوائے اس کے کہ کسی شخص کے متعلق ہمیں علم ہو چکا ہو کہ وہ۔شرارت کے لئے احمدی ہونا چاہتا ہے۔باقی ہم کسی پر بدظنی نہیں کر سکتے۔ہمیں اختیار نہیں کہ کسی کو جماعت میں داخل کرنے سے انکار کر دیں۔اس لئے ایسے لوگ بھی داخل ہو جاتے ہیں جن کی مثال کوڑھی یا مدقوق و مسلول کی ہوتی ہے۔مگر کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ کسی کوڑھی یا مدقوق و مسلول کو اسی حالت میں اپنے گھر میں رہنے دے۔ہر گز نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ اسی طرح رہا اور اسے صحت نہ ہوئی تو میری بیوی میرے بچوں اور دیگر متعلقین کی صحت بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔پس اگر وہ کسی ایسے بیمار کو گھر میں رکھنے پر مجبور ہو تو پوری کوشش کرے گا کہ وہ اچھا ہو جائے تا گھر کے دوسرے لوگوں پر اثر نہ پڑے۔اسی طرح جو لوگ نئے جماعت میں داخل ہوں ان کی تربیت و اصلاح کی پوری پوری کوشش کرتے رہنا چاہئے۔قادیان میں بعض لوگ ایسے بھی آ جاتے ہیں ان کے رشتہ دار احمدی ہو گئے تو انہوں نے کہا کہ تم بھی آ جاؤ بیعت کر لو۔رہیں گے اور وہ بھی آگئے پھر بعض ڈر کر بھی آ جاتے ہیں۔اور ایسے لوگ ہمیشہ گندہ نمونہ دکھاتے ہیں۔ہم مجبور ہیں۔ان کو کسی مجرم کے ثابت ہونے تک رڈ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے کی خدا تعالیٰ نے ہمیں اجازت نہیں دی۔اس لئے ان کے ضرر سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ان کی تربیت پر پورا پورا زور دیں اور شش کر کے ان کو بھی صحیح معنوں میں احمدی بنالیں اور ان کی تربیت پر زیادہ توجہ کریں۔مگر اب تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت لوگوں میں نفسا نفسی ہے۔اول تو مبلغین کو بھی اس طرف پوری توجہ نہیں اور دوسرے لوگوں میں سے ایک حصہ میں کمزوریاں ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہر مبلغ جس محلہ میں رہتا ہے اسے چاہئے کہ محلہ سے واقف ہو اور اس کے اخلاق کا نگران ہو۔وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اکٹھے کے ہر