خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 585

خطبات محمود 585 * 1941 بھی جو لڑائی ہوئی وہ اندھیرے میں ہوئی اور جو آدمی مارا گیا تھا اس کے سائے قاضی صاحب پر حملہ کر رہے تھے۔اور اس حالت میں یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ شخص انہی کے ہاتھ سے مارا گیا ہو۔وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ممکن ہے کسی اور کے ہاتھ سے وہ قتل ہو گیا ہو۔مگر انہوں نے مومنانہ سادگی سے کام کیا اور یہی کہا کہ اور لگتے میں نے مارا ہے۔اسی طرح عزیز احمد صاحب 3 کا واقعہ ہے۔انہوں نے جب فخر الدین ملتانی پر حملہ کیا تو ہم نے ان کو یہی کہلوایا کہ جھوٹ نہ بولنا اور انہوں نے نہ بولا اور اس طرح ان لوگوں نے جان دے کر اپنے گناہ کا کفارہ کر دیا۔بعض اور احمدیوں سے بھی جب قانونی اور اخلاقی غلطیاں ہوئیں تو انہوں نے سچائی سے کام لیا۔تو جماعت میں مخلص بھی ہیں جو ہر حال میں سچائی سے کام لیتے ہیں مگر ابھی کچھ احمدی ایسے بھی ہیں جن کے دلوں میں سچائی کی قدر نہیں۔جب بھی کوئی موقع آئے وہ بہانے بنانے آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔معمولی سی بات ہوتی ہے مگر وہ پہلو بچانے ہیں اور ایسا جواب دیتے ہیں کہ جس سے بچ جائیں۔اگر ہماری جماعت پوری طرح سچائی پر کاربند ہو جائے تو ایسا رعب قائم ہو سکتا ہے کہ ہزاروں ہزار لوگ اسی کی وجہ سے احمدی ہو جائیں۔ایک دفعہ تم یہ نمونہ قائم کر کے دیکھ لو کہ ہر شخص یہ کہے کہ احمدی جھوٹ نہیں بولتے۔پھر دیکھو کس طرح کامیابی ہوتی ہے۔ایک زمانہ میں یہ نمونہ زیادہ تھا اور اُس زمانہ میں ترقی بھی زیادہ تھی۔اب کچھ ایسے لوگ بھی جماعت میں داخل ہو گئے ہیں جو سیاسی احمدی ہیں اور ایسے لوگ جماعت بدنامی کا موجب ہو رہے ہیں۔جیسے کہتے ہیں ایک مچھلی تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔میں نے تبلیغ والوں کو بھی بار بار کہا ہے کہ سیاسی احمدی کسی کو نہ بنایا جاۓ۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ گو وہ سمجھ بھی چکے ہوں کہ عقائد درست ہیں مگر جماعت میں داخل اُس وقت ہوتے ہیں جب سمجھتے ہیں کہ اب احمدی ہو کر گاؤں میں وہ ہماری طاقت زیادہ ہو جائے گی۔ایسے لوگوں کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ جماعت کے لئے