خطبات محمود (جلد 22) — Page 561
* 1941 561 خطبات محمود ایسے خطرناک فتنہ سے بچنے کے لئے انسان جس قدر بھی دعائیں کرے کم ہے۔اور اب تو یہ خطرہ بڑھتے بڑھتے ہندوستان کے قریب پہنچ گیا ہے۔چنانچہ تازہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کریمیا 3 کے علاقہ میں جرمن داخل ہو گئے ہیں۔کریمیا سے پندرہ بیس میل کے فاصلہ پر ایشیا ہے اور گو یہ پندرہ بیس میل سمندر کا علاقہ ہے مگر ایک قوم کے لئے جو اتنی بڑی قربانیاں کر چکی ہے پندرہ بیس میل کے علاقہ کو عبور کرنا کونسا مشکل کام ہے۔جب اس علاقہ کو جرمنوں نے طے کر لیا تو آگے کوہ قاف آئے گا اور پھر چند سو میل کے فاصلہ پر ایران اور ایران کے بعد افغانستان اور بلوچستان آ جاتے ہیں۔پس وہ جرمن جو لوگوں کو ہزاروں میل پر دکھائی دیتے تھے اب وہ اپنا آدھا سفر طے کر چکے ہیں بلکہ بعض لحاظ سے وہ آدھے سے بھی زیادہ سفر طے کر چکے ہیں۔اور وہ لحاظ یہ ہے کہ اب ان کے رستہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو ان کا مقابلہ کر سکے۔روس والوں نے جو مقابلہ کیا ہے۔بے شک وہ حیرت انگیز ہے۔مگر ایران اور افغانستان کی بھلا کیا طاقت ہے کہ وہ جرمن والوں کا مقابلہ کر سکیں۔وہ تو ان ہتھیاروں کے ساتھ جو آجکل یوروپین طاقتوں کے پاس ہیں۔دو چار ہزار سپاہی بھجوا کر ہی ان ملکوں پر اپنا تسلط قائم کر سکتے ہیں۔انگریزوں کی طاقت بے شک بڑی ہے مگر ہندوستان میں ان کی طاقت نہیں۔ہندوستان سے متعلق اس وقت انگریزوں کی دس لاکھ فوج ہے۔جن میں سے باقاعدہ سیکھے ہوئے اور مسلح سپاہی صرف تین چار لاکھ ہیں لیکن جرمنی اور اس کے ساتھی ممالک کی فوج ایک کروڑ ہے۔اس ایک کروڑ میں سے دس پندرہ بیس لاکھ سپاہی بھجوا دینا ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کی آبادی تینتیس کروڑ ہے اور اگر یوروپین ممالک کے طریق پر بھرتی کی جائے تو تین کروڑ سپاہی تیار ہو سکتے ہیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہندوستان صنعتی ملک نہیں اور آجکل لڑائی آدمیوں سے نہیں ہوتی بلکہ آجکل بارود کی لڑائی ہوتی ہے، توپوں کی لڑائی ہوتی ہے، ٹینکوں کی لڑائی ہوتی ہے، ہوائی جہازوں کی لڑائی ہوتی ہے اور ہندوستان میں نہ اتنے ٹینک ہیں، نہ اتنے ہوائی جہاز ہیں جو ان سپاہیوں کے کام