خطبات محمود (جلد 22) — Page 54
$1941 54 خطبات محمود پہلا والے ستارے جو میں پھیل جاتے ہیں اور چمک چمک کر اس کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔اس کی نظر کے لئے دلفریب نظارہ پیدا کرتے اور جب دن آتا تو غائب ہو جاتے ہیں۔یقینا یہ چیزیں اسے حیرت میں ڈالنے والی تھیں اور حیرت میں ڈالنے والی ہو تیں اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ ابتدا میں ہی اسے پکڑ کر سیدھا رستہ نہ دکھا دیتا۔ہم دیکھتے ہیں گھر میں کوئی معمولی ساکھٹکا ہوتا ہے تو گھر والے اٹھ کر مجس شروع کر دیتے ہیں۔کوئی کہتا ہے چوہا ہو گا اور کوئی کہتا ہے چور ہو گا۔ایک معمولی ساکھٹکا چھپکلی اور چوہے سے لے کر چور تک پہنچا دیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے نظارے اسے کس طرح حیران کر سکتے تھے مگر جو نہی کہ انسانیت سن شعور کو پہنچی اور جو نہی انسان سن شعور کو پہنچا اللہ تعالیٰ نے اس کے کان میں یہ آواز ڈال دی کہ میں تیرا اللہ ہوں جس نے یہ سب دنیا پیدا کی ہے۔اور جو کچھ تجھے نظر آتا ہے یہ سب میری مخلوق ہے جس طرح کہ تو مخلوق ہے۔اور تو ایک دن مر کر میرے سامنے آنے والا ہے۔یہ سب چیزیں جو تجھے نظر آتی ہیں خواہ قریب ہوں خواہ دور میں نے تیرے فائدے اور تیرے کام آنے کے لئے پیدا کی ہیں اور سب تجھے نفع پہنچانے کے کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔اس آواز نے اسے کتنی پریشانیوں سے بچا لیا۔اگر پہلا انسان یعنی آدم اپنے سن شعور کو پہنچنے کے بعد اس آواز کو نہ سنتا تو اس کے لئے کس قدر مصیبت ہوتی اور وہ کتنی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا۔دن چڑھتا تو اس کے لئے ایک تکلیف کا آغاز ہو جاتا کہ سورج کی کُنہ کو معلوم کرے اور رات ہوتی تو ایک پریشانی کا دروازہ کھل جاتا کہ چاند کی حقیقت کو معلوم کرے اور پھر یہ پتہ لگائے کہ ان چیزوں کا اس سے کیا تعلق ہے؟ یہ اسے کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہیں یا نہیں؟ اس سے خوش یا ناراض ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جنہوں نے اس آواز سے فائدہ نہیں اٹھایا وہ ان چکروں میں پڑ گئے ہیں۔ہزارہا بُت پرست قومیں ان الجھنوں میں مبتلا ہیں۔کوئی کہتی ہے کہ چاند اور سورج پر ارواح چھا جاتی ہیں اور وہ ناراض یا خوش ہوتی ہیں۔نہ ہم سورج اور چاند تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ وہ اپنا منشاء ہم پر ظاہر کر سکتے ہیں۔نہ ہم یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس طرح خوش اور کس طرح ناراض ہوتی ہیں۔آج کسی شخص نے کوئی کام کیا جس کا نتیجہ خراب نکل آیا