خطبات محمود (جلد 22) — Page 513
خطبات محمود 513 * 1941 خلیفہ مدینہ میں بیٹھا ہوا کوئی بات کہتا تو قیصر روم قسطنطنیہ میں تھر تھر کانپ اٹھتا تھا اور کُجا آج یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ بادشاہت نے خلافت کی جگہ لے لی مگر سارے مسلمان ممالک مل کر یورپ کی کسی ایک بڑی طاقت کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے۔انہوں نے کوشش کی کہ قرآن کا جوا پھینک کر آزاد ہو جائیں مگر اور بھی اس سے زیادہ غلام ہو گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَنٍ کہ تم اس قانون سے نکل نہیں سکتے۔حتی کہ اسلام جو سچا مذہب ہے اس میں اگر کوئی خرابی تم خود بھی داخل کر لو بھی خود بخود نہ نکل سکو گے۔اس سے بھی کوئی مامور ہی آکر تمہیں نکالے گا۔دیکھ لو وہابیوں نے کتنا زور مارا کہ حنفیوں نے جو رطب و یابس اسلام میں داخل کر دیا ہے اسے نکال دیں مگر کامیاب نہ ہو سکے بلکہ اسے صاف کرتے ہوئے ساتھ ہی قرآن کریم پر بھی ہاتھ صاف کر دیا۔اور صرف بخاری ہی بخاری رہ گئی۔فرما یا لَا تَنفُذُونَ الَّا بِسُلْطن۔اگر خدا تعالیٰ کے دین میں تم خود کوئی بات داخل کر لو تو اس سے بھی تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی سلطان یعنی مامور ہی آکر نکالے گا۔تم خود اس سے بھی نہ نکل سکو گے۔اگر تم نے سچے مذہب میں کوئی گمراہی بھی داخل کر لی ہے تو چونکہ وہ دین کا جزو بن چکی ہے اس لئے اپنے دین کی عظمت کے پیش نظر خدا تعالیٰ تمہیں وہ گمراہی بھی نہیں نکالنے دے گا۔ورنہ تم میں یہ غرور پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید ہم بھی دین بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اس لئے ہم نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ سچے دین سے خرابیوں کو دور کرنے کے لئے بھی مامور کی ضرورت ہے۔گو وہ خرابی جسے اس نے نکالنا ہے بندوں نے ہی پیدا کی ہو۔مگر احتیاط کا پہلو یہی ہے کہ اسے خود نہ نکال سکو بلکہ وہ خرابی بھی الّابِ سُلْطنٍ ہی نکل سکتی ہے یعنی ہم اس کی اصلاح کے لئے مامور بھیجتے ہیں۔اس گمراہی سے نجات بھی سلطان کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔تم خود اس سے نجات نہیں پاسکتے اور یہ احتیاط اس لئے کی جاتی ہے کہ تا تم دودھ میں سے مکھی نکالتے نکالتے دودھ بھی ضائع نہ کر دو۔خدا تعالیٰ