خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 514

* 1941 514 خطبات محمود کے دین کو تم نے منسوخ کر دیا اور اس میں گند ملا لیا اور اس طرح خدا تعالیٰ کے قانون سے بچنے کی کوشش کی مگر اب اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہیں اسی کی غلامی کرنی پڑے گی جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آکر اس کی اصلاح نہ کر دے۔پس اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اگر تم مذہب کے قانون سے آزاد ہونے کی کوشش کرو گے تو بھی آزاد نہیں ہو سکتے بلکہ اس سے اور مصائب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔اب دیکھ لو یہ معنی کرنے کے بعد فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ کیسا مطابق بیٹھتا ہے یعنی تم خدا تعالیٰ کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔اگر ہم نے یہ قانون نہ بنایا ہوتا تو تم کیسے گڑھوں میں گر جاتے۔یہ حد بندی اگر نہ ہوتی، اگر مذہب کی اصلاح کا اختیار انسان کو ہوتا تو پتہ نہیں کہ وہ سچے دین کو کیا سے کیا بنا دیتا یا اگر اس کے اختیار میں ہوتا تو قانون قدرت کو بدل دیتا اور سائنس کی مدد سے موت کو اڑا دیتا اور اس طرح خطرناک مصائب کا شکار ہو جاتا۔اگر قانون فطرت یا قانون شریعت کو بدلنے کا اختیار انسان کو ہوتا تو وہ اپنے لئے ایسی ایسی مصیبتیں پیدا کر لیتا کہ جن سے پھر نکل نہ سکتا۔مثلاً فرض کرو موت کو اڑانے کا اختیار اسے ہوتا تو کس طرح مشکلات پیش آتیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت کو اپنے اختیار میں رکھ کر ہم نے تم پر رحم کیا ہے۔اگر مارنا یا جلانا انسان کے اختیار میں ہوتا تو یہ دونوں چیزیں اس کے لئے مصیبت بن جاتیں۔پھر فرمایا يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَّاءٍ وَ تُحَاسُ فَلَا تَنْتَصِرانِ یعنی دنیا جب کبھی ان قانونوں سے بچنے کی کوشش کرے گی۔دنیا میں لڑائی اور جھگڑے زیادہ ہوں گے۔جب انسان قانون قدرت سے بچنے کی کوشش کرے گا تب بھی اور جب قانون ہب سے بچنے کی کوشش کرے گا تب بھی وہ سخت مصیبت میں مبتلا ہو گا۔موجودہ جنگ بھی اسی قانون کے ماتحت ہو رہی ہے۔ہو رہی ہے۔سائنسدانوں نے کوشش شروع کی کہ وہ انسان کو خدا تعالیٰ سے آزاد کر دیں مگر اس کوشش کا نتیجہ