خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 482

* 1941 482 خطبات محمود بعض نے اپنی خدمات بھی پیش کی ہیں۔میں دوستوں کو بتا چکا ہوں کہ اس معاملہ میں اول او ر مقدم بات میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو جو وجہ جنگ کی مساعی میں حرج پیدا کرنے والی ہو۔پھر میں اس بات کی بھی کوئی نہیں دیکھتا کہ کسی رنگ میں جلد بازی سے کام لیا جائے۔جیسا کہ میں اخبار میں شائع کرا چکا ہوں۔گورنمنٹ کی طرف سے جواب یہ آیا ہے کہ اس معاملہ کی ڈپٹی کمشنر صاحب تحقیقات کر رہے ہیں۔گو میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ بغیر اس کے کہ ہم سے گواہ طلب کئے جائیں اور بغیر اس کے کہ ہمارے دلائل معلوم کئے جائیں ان کی تحقیقات کے معنے ہی کیا ہیں۔اگر تو تحقیقات کے صرف اتنے معنے ہیں کہ انہوں نے پولیس والوں سے پوچھ لینا ہے کہ کیا معاملہ ہوا تو یہ تحقیقات نہیں کہلا سکتی کیونکہ پولیس کی طرف سے اس بارہ میں جھوٹی رپورٹ پہلے ہی موجود ہے۔تحقیقات کا طریق یہ تھا کہ وہ ہم سے گواہ طلب کرتے، ہمارے دلائل معلوم کرتے اور پھر فیصلہ کرتے کہ شرارت کس کی ہے۔ہمارے پاس خدا تعالیٰ کے فضل سے گواہ موجود ہیں بلکہ خود گورنمنٹ کے بعض افسر اس بارہ میں گواہ ہیں۔مگر ڈپٹی کمشنر صاحب کو ان کا کیا پتہ لگ سکتا ہے جب تک ہم نہ بتائیں۔پس میں نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا تحقیق رہے ہیں اگر ان کی تحقیق اسی رنگ کی ہوئی تو پھر ان کی تحقیقات کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔مگر پھر بھی کوئی وجہ نہیں کہ ہم جلدی کریں۔میں سمجھتا ہوں جو شخص جلدی جوش میں آ جاتا ہے وہ مستقل مزاج اور قابل اعتبار نہیں ہوتا۔کام کے قابل وہی شخص ہوتا ہے جسے ایک دفعہ جب علم ہو جائے کہ فلاں بات کرنی ضروری ہے تو اگر بیس سال کے بعد بھی اسے وہ بات کرنے کے لئے کہا جائے تو اس کے دل میں ویسا ہی جوش موجود ہو جیسا میں سال پہلے موجود تھا۔چنانچہ دیکھ لو۔صحابہ نے کس طرح مکی زندگی میں مسلسل تیرہ سال تکالیف برداشت کیں۔مگر اس تیرہ سال کے لمبے عرصہ میں ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہو گئے اور نہ ان کے دلوں کے جوش سرد ہوئے۔چنانچہ