خطبات محمود (جلد 22) — Page 478
* 1941 478 خطبات محمود وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر دعا کرنے لگتا ہے کہ یا اللہ میری فلاں ضرورت کو پورا کر دے۔اب اس کا یا اللہ کہنا اپنے محبوب سے باتیں کرنا ہی ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے چور چوری کرنے جاتا ہے مگر کبھی ایک مومن کو حقیقی ضرورت کوئی نہیں ہوتی تو اس وقت وہ اپنے لئے احتیاج تلاش کرتا ہے اور معمولی معمولی باتوں کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنے رب سے باتیں کرنے کا بہانہ نکال لیتا ہے۔یہ عاشق کی ہیرا پھیری ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کوئی غرض ہو یا نہ ہو، ضرورت ہو یا نہ ہو کسی طرح اپنے محبوب سے باتیں کر لوں۔یہی محبت کا اصل مقام ہوتا ہے اور اسی محبت کے نتیجہ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رسول کریم صلی الم کے زمانہ کا ایک نہایت ہی دردناک واقعہ ہے جس سے چلتا ہے کہ سچی محبت رکھنے والا انسان کس طرح بہانے تلاش کر کر کے جذبات محبت کی تسکین کا سامان مہیا کرتا ہے۔الله سة رسول کریم صلى ا ل ل ل ورم کو اپنی عمر کے آخری ایام میں بار بار الہام ہونے شروع ہوئے کہ اب آپ کا زمانہ وفات نزدیک ہے۔آپ نے مسجد میں تمام صحابہ کو جمع کیا اور ان کے سامنے ایک تقریر کی۔آپ نے فرمایا اے لوگو! خدا تعالیٰ کا ایک نیک بندہ تھا اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہے تو دنیا میں رہنا پسند کرے اور اگر چاہے تو خدا تعالیٰ کے پاس جانا پسند کر لے۔اس نے دنیا میں رہنا پسند کیا بلکہ یہی چاہا کہ وہ اپنے خدا کے پاس چلا جائے۔لوگوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے خیال کیا کہ رسول کریم صلی ا لی ہم اپنے وعظ میں کسی خدا کے بندے کی ایک مثال بیان فرما رہے ہیں مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب اس بات کو سنا تو وہ رو پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو بکر کو جب روتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا اس بڑھے کی مت ماری گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ کیا تو ایک مثال بیان فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایک بندہ تھا جس سے خدا نے یہ پوچھا کہ تو دنیا میں رہنا پسند کرتا ہے یا ہمارے پاس آنا