خطبات محمود (جلد 22) — Page 477
* 1941 477 خطبات محمود ان معذوروں کے لئے ہے جو پچھلی رات اٹھ نہیں سکتے مثلاً کوئی بیمار ہے یا بوڑھا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ تہجد کے وقت اس کے لئے اٹھنا مشکل ہے وہ تراویح میں شامل ہو سکتا ہے مگر ان معذروں اور بیماروں کے علاوہ جو تراویح میں شامل ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں اپنی شستی کا انگوٹھا لگا کر آتا ہے۔ہاں جو بیمار یا معذور ہیں۔انہیں تراویح میں شامل ہونے سے نہیں ڈرنا چاہئے یا مثلاً بچے ہیں ان کے متعلق یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ تہجد کے لئے اٹھیں گے۔سحری سے پندرہ ہیں منٹ پہلے کھانا کھانے کے لئے تو وہ اٹھ سکتے ہیں مگر تہجد کے لئے اٹھنا ان پر گراں گزرتا ہے۔ایسوں کے سوا باقی سب کو تہجد کی نماز میں شامل ہونا چاہئے یا تو وہ اپنے گھر پر تہجد ادا کریں اور یا پھر اس نماز میں شامل ہوں۔جو تہجد کے وقت باجماعت ادا کی جائے اور خصوصیت سے اپنے لئے اور تمام جماعت کے لئے دعائیں کریں۔ہماری جماعت ایسے فتنوں میں گھری ہوئی ہے کہ اسے دعاؤں کی بہت ہی ضرورت ہے اور یوں تو مومن ہر وقت ہی دعا کرتا ہے خواہ کوئی فتنہ ہو یا نہ ہو۔لوگوں میں مثل مشہور ہے چور چوری سے جائے گا ہیرا پھیری سے نہیں جائے گا یعنی چوری کی عادت بے شک اس سے چھوٹ جائے گی مگر اِدھر اُدھر تاکتا جھانکتا ضرور رہے گا کیونکہ اس کی اسے عادت پڑ چکی ہوتی ہے۔محبت بھی ایک قسم کی عادت ہی ہے اور جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خواہ وہ کیسی ہی کیفیات میں سے گزرے ہیرا پھیری سے وہ نہیں جاتا۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی ال کلم نے فرمایا ہے اگر تم کسی دن تہجد نہ پڑھ سکو تو اشراق ہی پڑھ لو۔یہ وہی ہیرا پھیری والی بات ہے یعنی محبت کے اظہار کا ایک دوسرا ذریعہ نکال لیا گیا ہے۔اگر کسی وقت کسی وجہ سے مومن محبت کا پورا اظہار نہیں کر سکتا تو وہ اس کے لئے اظہار کا کوئی اور موقع کسی اور صورت سے ها الله سة نکال لیتا ہے۔اسی طرح مومن کو دعاؤں کی عادت پڑ جاتی ہے۔تو اس کے دل میں تڑپ رہتی ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سے خدا تعالیٰ سے بات کرے اور اس کے لئے وہ دعاؤں کے بہانے تلاش کرتا رہتا ہے۔بعض دفعہ تو اسے کوئی حقیقی احتیاج ہوتی ہے اور