خطبات محمود (جلد 22) — Page 473
* 1941 473 خطبات محمود نہیں ہوتے۔اسی مسجد میں 1907ء میں سب سے پہلی دفعہ میں نے پبلک تقریر کی۔جلسہ کا موقع تھا بہت سے لوگ جمع تھے۔حضرت خلیفہ اول بھی موجود تھے۔میں نے سورہ لقمان کا دوسرا رکوع پڑھا اور پھر اس کی تفسیر بیان کی۔میری اپنی حالت اس وقت یہ تھی کہ جب میں کھڑا ہوا تو چونکہ اس سے میں کھڑا ہوا تو چونکہ اس سے پہلے میں نے پبلک میں کبھی لیکچر نہیں دیا تھا اور میری عمر بھی اس وقت صرف ۱۸ سال کی تھی۔پھر اس وقت حضرت خلیفہ اول بھی موجود تھے انجمن کے ممبران بھی تھے اور بہت سے اور دوست بھی آئے ہوئے تھے اس لئے میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔اس وقت مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے سامنے کون بیٹھا ہے اور کون نہیں۔تقریر آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ جاری رہی۔جب میں تقریر ختم کر کے بیٹھا تو مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول نے کھڑے ہو کر فرمایا۔میاں! میں تم کو مبارک باد دیتا ہوں کہ تم نے ایسی اعلیٰ تقریر کی۔میں تمہیں خوش کرنے کے لئے یہ نہیں کہہ رہا میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں بہت پڑھنے والا ہوں اور میں نے بڑی بڑی وہ تفسیریں پڑھی ہیں مگر میں نے بھی آج تمہاری تقریر میں قرآن کریم کے مطالب سنے ہیں جو پہلی تفسیروں میں ہی نہیں بلکہ مجھے بھی پہلے معلوم نہیں تھے۔اللہ تعالیٰ کا محض فضل تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک نہ میرا اب یہ مطالعہ وسیع تھا اور نہ قرآن کریم پر لمبے غور کا کوئی زمانہ گزرا تھا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ پر نے میری زبان پر اس وقت ایسے معارف جاری کر دیئے جو پہلے بیان نہیں ہوئے تھے۔تو دوسروں سے سن کر انسان کے علم میں بہت کچھ زیادتی ہوتی ہے۔صحابہ کرام ہمیشہ آپس میں ملا کرتے اور حدیثوں میں آتا ہے کہ جب وہ اکٹھے ہوتے تو ایک دوسرے سے کہتے کہ آؤ ہم تھوڑی دیر کے لئے رسول کریم صلی الم کے زمانہ کی باتیں کریں تاکہ ہمارا ایمان تازہ ہو جائے۔3- چنانچہ جب بیٹھتے تو ایک کہتا میں نے رسول کریم صلی العلیم سے یہ بات سنی ہے اس پر دوسرے کو بھی کوئی بات یاد آ جاتی اور وہ کہتا۔ہاں میں بھی اُس وقت موجود تھا اور رسول کریم صلی الم نے اس کے