خطبات محمود (جلد 22) — Page 472
* 1941 خطبات محمود 472 پس مجھے ضرورت نہیں کہ میں ایسے درسوں میں شامل ہوں۔لیکن وہ شخص جو پڑھا ہوا نہیں اور وہ گھر میں بیٹھ کر قرآن کریم پر غور کر کے اس کے مطالب کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔اس کے لئے تو بہت ہی ضروری ہے کہ وہ درس میں شامل ہو۔گو ہمیں ان تمام پڑھے لکھے لوگ بھی اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ قرآن کریم کو سمجھ بعض لوگ اچھے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور علوم ظاہری انہیں خوب آتے ہیں مگر کے اندر ایسا ملکہ نہیں ہوتا کہ وہ قرآن کریم پر غور کر سکیں۔ایسے لوگوں کے لئے بھی باوجود عالم اور پڑھے لکھے ہونے کے ضروری ہے کہ درس میں شامل ہوں۔پھر بعض دفعہ ایک شخص عالم قرآن تو ہوتا ہے مگر دوسرا شخص جو قرآن سنا رہا ہوتا ہے۔وہ اس سے بھی زیادہ قرآن کریم کو جاننے والا ہوتا ہے۔ایسی حالت میں۔خص عالم قرآن کے لئے بھی درس میں شامل ہونا ضروری ہو گا۔اور اگر دوسرا قرآن کریم کو زیادہ جاننے والا نہ ہو اور سننے والا زیادہ عالم ہو تو اس حالت میں بھی درس میں شامل ہونا فائدہ سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ اسے خالی نہیں ہوتا کیونکہ اسے بھی باوجود زیادہ علم رکھنے کے دوسرے کے درس میں بعض دفعہ ایسی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں جو اس کے ذہن میں نہیں ہو تیں۔ہمارے ایک استاد تھے میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں درس دیتا تو وہ با قاعدہ میرے درس میں شامل ہوتے لیکن اس کے مقابلہ میں میرے ایک اور استاد تھے جب کبھی وہ درس دے رہے ہوتے تو پہلے صاحب مسجد میں آ کر انہیں درس دیتے ہوئے دیکھتے تو چلے جاتے۔اور کہتے کہ اس کی باتیں کیا سُننی ہیں یہ تو سنی ہوئی ہیں مگر میرے درس میں باوجود اس کے کہ میں ان کا شاگرد تھا بوجہ اس کے کہ مجھ پر حُسنِ ظنی رکھتے تھے ضرور شامل ہوتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں اس کے درس میں اس لئے شامل ہوتا ہوں کہ اس کے ذریعہ قرآن کریم کے بعض نئے مطالب مجھے معلوم ہوتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے کہ بعض لوگوں چھوٹی عمر میں ہی ایسے علوم کھول دیئے جاتے ہیں جو دوسروں کے وہم اور گمان میں بھی پر